میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق…

میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

ان تہمتوں کے جواب میں ہم عرض کریں گے یہ سب باتیں خالص جھوٹ اور واضح افترا پردازیاں ہیں، اس روایت کو نقل کرنے والے تنہا سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی نہیں ہیں، بلکہ فرمان نبویﷺ

 لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ 

کو آپﷺ سے عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف، عباس بن عبدالمطلب، ازواج مطہرات، ابو ہریرہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم نے بھی روایت کیا ہے۔

(العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 443)۔ 

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’صحاح اور مسانید کی کتب میں ان لوگوں سے یہ روایت ثابت اور مشہور ہے، حدیث سے واقفیت رکھنے والے علماء اسے اچھی طرح جانتے ہیں، ایسی صورت میں کسی کا یہ کہنا کہ اس روایت کو صرف ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے نقل کیا ہے، اس کی جہالت کی انتہا اور صریح تہمت تراشی ہے۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: ابن تیمیہ: جلد 4 صفحہ 199)۔

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کے روایوں کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’روافض کا گمان غلط ہے اگر تنہا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہی اس روایت کو بیان کرتے تو بھی روئے زمین کے باشندوں کے لیے ضروری تھا کہ آپ کی روایت کو تسلیم کریں اور ان کی بات مانیں۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 250)۔ 

اس موضوع پر ایک مایہ نا ز کتاب ’’العقیدۃ فی أہل البیت بین الافراط والتفریظ‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر سلیمان بن رجاء السحیمی فرماتے ہیں: 

’’ہماری بات کی تائید خود روافض کی ان اہم ترین کتب سے ہوتی ہے، جن میں انھوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق پانچویں امام معصوم، امام جعفر الصادق سے یہ روایت نقل کی ہے، جسے کلینی، صفار اور مفید وغیرہ نے اپنی کتب میں اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمَا سَہَّلَ اللّٰہُ بِہٖ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّۃِ، وَالْعُلَمَائُ اُمَنَائُ، وَالْأَتْقِیَائُ حَصُوْنٌ، وَالْأَوْصَیَائُ سَادَۃٌ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلٰی سَائِرٍ النُّجُوْمِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَإِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَاًرا وَلَا دِرْہَمًا وَ ٰلِکْن وَرِّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔

(الکافی: الکلینی: جلد 1 صفحہ 32، 34)۔

’’جو شخص علم کی تلاش میں باہر نکلا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا، علماء قوم کے امانت دار ہیں، پرہیز گار قوم کے قلعے ہیں او صیاء قوم کے سردار ہیں، عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر، علماء انبیاء کے وراث ہیں، انبیاء نے وارثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑا، البتہ علم کو وراثت میں چھوڑا، جس نے وہ علم سیکھ لیا، وہ پورا حصہ پا لیا۔‘‘

ایک روایت میں اس طرح ہے:

إِنَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَائِ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْأَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِرْہَمَا وَلَادیِنْاَرًا، وَإِنَّمَا أَوْرَثُوْا أَحَادِیْثَ مِنْ أَحَادِیْثِہِمْ۔

(الکافی: الکلینی: جلد 1 صفحہ 32، 34) بصائر الدرجات: الصفار: جلد 10 صفحہ 11) الاختصاص المفید: صفحہ 4) دیکھیے: علم الیقین للکاشانی: جلد 2 صفحہ 747، 748) بحوالہ العقیدہ لا ہل البیت صفحہ 444)۔

’’بے شک علما انبیاء کے وارث ہیں، اس طرح کہ انبیاء وراثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑتے انھوں نے اپنے اقوال واحادیث کو وارثت میں چھوڑا ہے۔‘‘

 یہ حدیث آیت میراث: يُوْصِيْكُمُ اللّٰـهُ فِیٓ أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ (اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے) (سورۃ النساء آیت 11) 

اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے۔ کے خلاف ہے۔ 

روافض کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے آیت میراث کا حکم صرف امت کے لیے خاص کر کے آپﷺ کی ذات کو اس سے مستثنیٰ نہیں کیا۔

(منہا ج الکرامۃ مع منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194)۔

 حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خطاب ان تمام حضرات کو شامل ہے جو اس خطاب سے مقصود ہیں، لیکن اس سے یہ لازم اور ضروری نہیں ہوتا کہ نبی کریمﷺ بھی اس کے مخاطب ہوں، 

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194، 195)۔

 اس لیے کہ آپﷺ کو تمام احکام میں عام انسانوں پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، آپﷺ تو مومنوں کے لیے ان کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں، آپﷺ کے لیے زکوٰۃ و صدقات کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے حرام کر دیا جب کہ آپﷺ کے امتی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ آپﷺ کے کچھ امتیازات اور خصوصیات ہیں جو دوسروں کی نہیں ہیں، انھیں خصوصیات میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا کوئی وارث نہیں ہوتا، اس حکم کی تخصیص ان کے لیے درحقیقت اللہ کی طرف سے ایک حفاظت کا انتظام ہے تاکہ کوئی شخص ان کی نبوت کو یہ کہہ کر داغ دار نہ کر سکے کہ انبیاء نے دنیا طلب کی اور اسے اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ گئے اور دوسرے انسان چونکہ نبی نہیں ہیں کہ ان کی نبوت داغ دار ہونے کا اندیشہ ہو اس لیے انہیں کوئی ممانعت نہ ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو امّی بنا کر، لکھنے اور شعر گوئی سے محفوظ رکھ کر آپ کی نبوت کو اعتراضات و اشکالات سے پاک کیا، جبکہ دوسرے لوگوں کو اس پاکیزگی کی ضرورت نہ تھی۔ 

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 194، 195) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 445)۔

حافظ ابن کثیرؒ روافض کے استدلال کی تردید اس طرح کرتے ہیں: رسول اکرمﷺ کو کچھ ایسی خصوصیات ملیں جن میں دوسرے انبیاء علیہم السلام آپ کے شریک نہیں رہے، لہٰذا اگر یہ مان لیا جائے کہ آپﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے تو بھی صحابہ کرامؓ اور ان میں خاص طور سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جو حدیث بیان کی ہے وہ اس تخصیص کی وضاحت ہے کہ یہ حکم صرف آپﷺ کے لیے ہے دوسرے انبیاء کے لیے نہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 254)۔

 اس طرح روافض کا یہ دعویٰ یکسر باطل ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث آیت میراث کے خلاف ہے۔ 

یہ حدیث دیگر دو آیات کے بھی خلاف ہے:

1: وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ (سورۃ النمل آیت 16) 

صفحہ 2 از 4