شیعہ والدین کے لیے دعائے مغفرت کرنا - فتاویٰ جات | دفاع…

شیعہ والدین کے لیے دعائے مغفرت کرنا


سوال:میں اور میری بیوی تین سال پہلے شیعہ تھے، الحمد للہ تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوئے، میری اہلیہ کے والدین وغیرہ کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کو مسنون طریقہ کے مطابق سلام کرنا، ان کے سلام کا جواب دینا جائز ہے؟ یا نہیں؟ جب کہ میرے خسر کا یہ عقیدہ ہے کہ پہلے زمانہ میں اللہ میاں تھے اور اب سیدنا علیؓ ہیں، جن کو سجدہ کرنا کارِ ثواب ہے ہمیں بھی اس عقیدے کے منوانے پر اصرار کرتے ہیں۔

جواب: شیعوں میں مختلف فرقے ہیں بعض کے عقائد کفر تک پہنچے ہوئے ہیں جو لوگ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ خدا سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ قدرت وغیرہ میں شریک مانتے ہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی حضرت علیؓ کے بجائے حضورِ اکرمﷺ کو وحی پہنچائی ہے، اور جو حضرت عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں، اور جو لوگ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے صحابی ہونے کا انکار کرتے ہیں وغیر ذالک کفریہ عقائد رکھنے والوں کو فقہائے کرام نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ 

ان کے علاوہ شیعوں کے اور بھی کفریہ عقائد ہیں مثلاً تحریف قرآن کا قائل ہونا، حضورِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد چار اشخاص کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے، امام کا معصوم اور مفترض الطاعۃ ہونا، اس پر وحی باطنی آتی ہے، ان کو حرام و حلال کرنے کا اختیار ہوتا ہے، وہ تمام کمالات و شرائط و صفات میں انبیاء کرام علیہم السلام کا ہم پلہ ہوتا ہے، ان میں اور پیغمبر میں کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ امامت کا مرتبہ پیغمبری سے بھی بالاتر ہے سوال میں آپ نے ان کے مقتداء کے متعلق ان کا جو عقیدہ تحریر کیا ہے اس کے کفر اور شرک ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ اس لیے اس قسم کے عقائد کے حامل شیعوں کو مسنون طریقہ کے مطابق سلام کرنا، مسنون طریقہ کے مطابق ان کے سلام کا جواب دینا، ان کی مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے، ہاں ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنا جائز ہے۔ 

(فتاویٰ رحیمیہ: جلد3 صفحہ254)