اپنی ذات پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترجیح و…

اپنی ذات پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترجیح و افضیلت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(المعجم الکبیر: الطبرانی: جلد 1 صفحہ 55) حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں۔ دیکھیے: فتح الباری)

صلہ بن زفرالعبسیؓ کا قول ہے کہ جب کبھی حضرت علیؓ کے پاس حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ذکر ہوتا تو فرماتے: سبقت لے جانے والے کی بات کرتے ہو، ا س ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کبھی ہم نے خیر کے کاموں میں حصہ لیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ اس میں ہم سے آگے نکل گئے۔

(المعجم الاوسط: الطبرانی: جلد 7 صفحہ 207، 208) اس کی سند ضعیف ہے۔)

محمد بن عقیل بن ابی طالب سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا، اور فرمایا: اے لوگو! بتاؤ کون سب سے بہادر ہے؟ ہم نے کہا: آپ اے امیر المؤمنین، حضرت علیؓ نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ غزوۂ بدر کے موقع پر جب ہم اللہ کے رسولﷺ کے لیے سائبان لگارہے تھے تو ہم نے کہا: کون ہے جو آپﷺ کی حفاظت کے لیے رہے گا تاکہ کوئی مشرک آپﷺ کو تکلیف نہ دے سکے؟ اس وقت صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یہ ذمہ داری قبول کی تھی، ننگی تلوار سونتے نبی کریمﷺ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوگئے، جب کوئی بھی دشمن آپﷺ سے قریب آتا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) تلوار لے کر اس کی طرف دوڑتے، میں نے وہ منظر دیکھا ہے کہ جب قریش نے رسول اللہﷺ کو خانۂ کعبہ کے پاس پکڑ لیا تھا، آپ کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہہ رہے تھے: ’’تم نے کئی معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ ‘‘اس وقت صرف سیدنا صدیقِ اکبرؓ آپﷺ کی مدد کے لیے آگے بڑھے تھے، ان کے بالوں کی دو لٹیں تھیں، وہ رسول اللہ کو بچاتے ہوئے کبھی اپنے دائیں والوں کو گھونسے مارتے اور کبھی بائیں والوں کو اور کہتے: ’’کیا تم لوگ اس آدمی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب صرف اللہ ہے، وہ تمھارے رب کے پاس سے تمھارے لیے نشانیاں لے کر آیا ہے۔‘‘اس اٹھا پٹک میں ابوبکر کی ایک لٹ بھی کٹ گئی، پھر سیدنا علیؓ نے پوچھا: میں تمھیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، ذرا بتاؤ کہ آلِ فرعون کا وہ مرد مومن (جس نے موسیٰ علیہ السلام سے تعاون کیا تھا) بہتر تھا یا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں؟ کسی نے کوئی جواب نہ دیا، پھر آپ نے خود ہی کہا: اللہ کی قسم! ابوبکر کا وہ ایک دن آل فرعون کے مرد مومن سے کہیں بہتر ہے، اس مرد مومن نے اپنے ایمان کو چھپائے رکھا، تو اللہ نے اس کی تعریف کی جب کہ یہ ابوبکر ہیں جنھوں نے اپنے جسم وجاں کو اللہ کے راستہ میں قربان کردیا۔

(المستدرک: حاکم: جلد 3 صفحہ 67) امام حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم کے شرط پر ہے، اور امام ذہبیؒ نے حاکم کی موافقت کی ہے۔)


صفحہ 2 از 2