موازنہ متعہ و زنا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موازنہ متعہ و زنا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

متعہ اور زنا میں کل مراحل یکساں ہیں سوا اس کے کہ زنا میں صیغہ متعہ نہیں پڑھا جاتا اور متعہ میں یہ صیغہ اس طرح پڑھا جاتا ہے کہ عورت کہتی ہے "متعک نفسی" کہ میں نے اپنے نفس کو تیرے متعہ میں دیا اور مرد کہتا ہے "قبلتک" (ترجمہ) میں نے قبول کیا تجھ کو۔  

(جامع عباسی: صفحہ 125)

متعہ اور زنا میں امورات مشترک حسبِ ذیل ہیں:

1: زنا اور متعہ دونوں صورتوں میں معاوضہ پیشگی دیا جاتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ زنا کی پیشگی کو خرچی اور متعہ کی پیشگی کو اجرت کہتے ہیں دونوں حالتوں میں معاوضہ کی ادائیگی پیشگی اس لیے قرار دی گئی ہے  

(تنبیہ المنکرین: صفحہ 99)  

کیونکہ مابعد کا دعویٰ عدالت میں ممنوع السماعت ہے، اس لیے کہ یہ معاوضہ معاہدہ ناجائز کا ہے۔

2: زنا میں خرچی کا تعین نہیں ہے اور متعہ میں اجرت کا نہیں ایک مٹھی گندم (کف من بر) یا ایک لقمہ طعام (کف من طعام)  

(کافی: جلد 2 کتاب اول: صفحہ194)  

سے لیکر لاتعداد رقم نقد ہو سکتا ہے دونوں صورتوں میں مرد کی حیثیت و حوصلہ پر اس کا انحصار ہے۔

3: زنا کے لیے تعینِ وقت ضروری ہے اور متعہ بھی اس کے بغیر نا جائز ہے۔  

اگر معیار گھڑی گھنٹہ کی رو سے معین نہ ہوگی تو متعہ باطل ہے۔  

(جامع عباسی: صفحہ 125)  

خواہ وقت ایک گھڑی گھنٹہ سے لے کر ایک ماہ یا ایک سال ہو، مرد کی فرصت و حیثیت اس امر کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

4: زنا میں بھی تنہائی اور پوشیدگی ضروری ہے اور متعہ کے لیے بھی اشتہار و اعلان کی ضرورت نہیں  

(تہذیب الاحکام، باب النکاح) 

لیس فی المتعہ الاشتہار والاعلان۔

5: زنا چونکہ فعل غیر شرعی ہے، اس لیے عورتوں کی قید شرعی طور پر عبث فعل ہے خواہ مرد ایک وقت میں دس عورتوں سے زنا کرے اسی طرح متعہ میں بھی اس قسم کا کوئی تعین نہیں ہے۔  

تزوج منهن الفا فانھن مستاجرات۔

ترجمہ: ہزار عورتوں سے متعہ کرو کیونکہ وہ ٹھیکہ کی چیزیں ہیں۔  

(کافی: جلد2 کتاب اول صفحہ141)  

اسی طرح استبصار کے باب یجوز من المتعہ قال کم شئت۔

ترجمہ: ممتوعہ کتنی حلال ہیں فرمایا جس قدر چاہو۔

6: پیشہ ور زانیہ عورتیں بے حجاب ہوا کرتی ہیں اور ممتوعہ کے لیے بھی پردہ کی قید لگانی ناجائز ہے۔  

(استبصار کتاب الحدود باب مایحصن)

7: زنا بغرضِ رفعِ حاجتِ شہوانی ہوتا ہے نہ کہ بغرضِ بقائے نسلِ انسانی۔  

اور متعہ کی بھی غرض و غائت یہی ہوتی ہے۔  

(تنبیہ المنکرین: صفحہ6)  

بلکہ متعہ میں منی کا اخراج اور اس کا پھینکنا مقصود ہوتا ہے، خواہ مرد بوقتِ انزال منی عورت کے رحم سے باہر ہی گرا دے۔  

(جامع عباسی: صفحہ 155)

8: زنا میں بھی جس وقت مرد چاہے بلا طلاق دیے اپنے آپ کو عورت سے الگ کر سکتا ہے اور یہی حالتِ بینہ متعہ میں بھی پائی جاتی ہے طلاق کی ضرورت یہاں بھی نہیں۔  

(جامع عباسی: صفحہ 125)

9: زنا میں نہ توارث فی الاولاد اور نہ فیما بین فریقین (یعنی نہ اولاد کو وراثت پہنچتی ہے، نہ مرد و عورت میں سے کسی کو) اور یہی مثل متعہ میں کہی جاتی ہے۔  

ونیز لیس بینھما میراث اشترطا ولم یشترط۔

(فروع کافی: کتاب اول، صفحہ193، 

و جامع عباسی: صفحہ 135)

10: زنا میں بھی عورت کا نان نفقہ مرد کے ذمہ نہیں ہوتا اور متعہ میں بھی حالت یکساں ہے  

(جامع عباسی: صفحہ 135)  

طلاق کی صورت میں بھی تا انقضائے عدت مطلقہ کا نان نفقہ مرد کے ذمہ ہوتا ہے مگر متعہ میں یہ بھی نہیں ہے۔ لا ذمہ لھا علیک  

(کافی: جلد2 کتاب اول)

11: زنا میں بھی فریقین کی رضا مندی وکیل اور گواہان اور نکاح خواں کی ضرورت نہیں ہوتی اور متعہ میں بھی بعینہ یہی حالت ہے بلکہ روافض کے ہاں تو نکاح بھی ان لوازمات سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو باقر مجلسی کے رسالہ فقہ کا باب النکاح۔

12: بعض حالات کے اعتبار سے متعہ زنا سے بھی زیادہ شرمناک فعل ہے کیونکہ ولد الزنا تو علانیہ اپنی حرامی حیثیت کو قوم طوائف کی صورت میں تسلیم کرتے ہیں مگر ولد المتعہ اپنی حیثیت متاعی کو تسلیم کرنے سے ایسے عاری ہیں کہ ہندوستان اور ایران کے اتنے کروڑ شیعہ آبادی میں سے ایک بھی اپنے آپ کو متاعی کہنے کے لیے تیار نہیں ہے گو لاکھوں متاعی مومنوں کی اولاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں۔