حضرت مولانا سید عبد الرحیم لاجپوری رحمۃاللہ کا فتویٰ (خطیب…

حضرت مولانا سید عبد الرحیم لاجپوری رحمۃاللہ کا فتویٰ (خطیب بڑی جامع مسجد راندیر ضلع سورت) مسلمانوں کے قبرستان میں روافض کو دفن کرنا


سوال:کیا فرماتے علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ سنیوں کا ایک قبرستان ہے جس کا انتظام کورٹ کی طرف سے سنی مسلم وقف کمیٹی نامی ایک کمیٹی کو سپرد کیا گیا ہے اس قبرستان میں مسلمانوں کے علاوہ غیر سنی مثلاً شیعہ وغیرہ فرقہ کا کوئی مردہ دفن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر یہ کمیٹی ایسی اجازت دیتی ہو تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب:  روافض و اہلِ تشیع میں مختلف العقائد فرقے ہیں بعض وہ ہیں جو حضرت علیؓ کو خلیفہ اول ہونے کے مستحق سمجھتے ہیں مگر باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا نہیں کرتے، یہ فاسق اور مبتدع ہیں اسلام سے خارج نہیں ہیں ان کی نمازِ جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی جگہ الگ کر دی جائے اور بعض وہ ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو معبود سمجھتے ہیں، بعض وہ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی حضرت علیؓ کو پہنچانے کے بجائے حضرت محمدﷺ کو پہنچا دی، یا ان کے نزدیک نبی و رسول بننے کے اصل حقدار سیدنا علی المرتضیٰ ؓ تھے بعض وہ ہیں جو حضرت عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں، بعض ایسے بھی ہیں جو حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلمان ہی نہیں مانتے کافر و مرتد قرار دیتے ہیں ان فرقوں کی نمازِ جنازہ درست نہیں اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں ہے لہٰذا ہر فرقہ کی تعیین مشکل ہے، جو لوگ روافض و شیعہ کہلاتے ہیں ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے اس میں احتیاط ہے۔ 

(فتاویٰ رحیمیہ: جلد7 صفحہ74)