حضرت مولانا مفتی عبدالخیل کا فتویٰ (رئیس دار الافتاء و…

حضرت مولانا مفتی عبدالخیل کا فتویٰ (رئیس دار الافتاء و التحقیق خطیب ابوبکر صدیقؓ مسجد، ڈیفنس کراچی) شیعہ کا نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے کا حکم


سوال: اگر اہلِ سنت و الجماعت کا کوئی فرد کسی شیعہ کی نمازِ جنازہ خود پڑھ لے یا خود پڑھا دے، تو کیا اس صورت میں ان کی اہلیہ کو طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اور کیا اس صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا؟

جواب: اگر اس شخص نے جائز سمجھتے ہوئے ایسے شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھ لی یا پڑھوائی جو ضروریاتِ دینِ اسلام کا منکر ہو، مثلاً: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھنے والا ہو، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا منکر ہو، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت یا نبوت کا قائل ہو معاذاللہ تو وہ شیعہ چونکہ مسلمان نہیں، اور غیر مسلم کا جنازہ پڑھنا یا پڑھانا حرام ہے، اور حرام چیز کو جائز یا کارِ ثواب جاننا کفر ہے۔

لہٰذا اس شخص پر جس نے نمازِ جنازہ پڑھی یا پڑھائی، اس شیعہ کے عقائد بھی اگر واضح تھے اور وہ واقعی ضروریاتِ دینِ اسلام کی باتوں کا منکر تھا تو ایسی صورت میں اس شخص کا ایمان واقعی خطرے میں ہے اس شخص کو چاہیے کہ تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح بھی کرے۔

الدر المختار" مع "رد المحتار ما يكون كفراً اتفاقاً يبطل العمل والنكاح و أولاده أولاد الزنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح"  

ولما فی الہندیہ ولو قذف عائشہ الصدیقہ کفر باللہ۔

 وأیضاً فی "بحر الرائق و بقذفه عائشہ من نسائه، وبإنکاره صحبة أبی بکر۔ 

ولما فی "الشامیۃ إن الرافضی إن كان ممن يعتقد الألوهية فی علی، أو أن جبرئیل عليه السلام غلط فی الوحی، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفة القواطع المعلومة من الدين بالضرورة۔ 

(فتاویٰ عباد الرحمٰن: جلد1 صفحہ 53)