حضرت مہدی علیہ الرضوان ظہور کے وقت کتنے مؤمن ہوں گے - ردِ…

حضرت مہدی علیہ الرضوان ظہور کے وقت کتنے مؤمن ہوں گے

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 2

اسلام

حضرت مہدی علیہ الرضوان ظہور کے وقت کتنے مؤمن ہوں گے:

مسلمانوں کے مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کے حضرت محمد المہدی علیہ الرضوان جب ظاہر ہوں گے تو مسلمان دنیا بھر میں کثیر ہوں گے۔

شیعیت:

ظہور مہدی (بارہواں امام) مہدی کے وقت 40 کامل مومن دنیا میں ہوں گے:

جب دنیا میں چالیس مومن کامل رہ جائیں گے تب امام مہدی کا ظہور ہوگا حضرت حضر کی طرح امام مہدی بھی ابھی تک زندہ موجود ہیں۔

(کتاب چودہ ستارے: از سید نجم الحسن کراروی، مطبوعہ امامیہ کتب خانہ موچی دروازہ لاہور)

اسلام:حضرت محمد مہدی کی آمد کے وقت مسلمانوں کی عمر:

آنحضرتﷺ کی طرف امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی 67 علامات میں کسی جگہ مسلمانوں کی عمر کی زیادتی اور ان کے ہاں ہر سال کسی لڑکے کی پیدائش کا کوئی ذکر نہیں ہے عمر کے زیادہ ہونے کا تصور صرف شیعہ کے امام مہدی کے ظہور میں موجود ہے۔ 

(از مؤلف)

شیعیت: امام مہدی کی آمد کے وقت ہر شیعہ کی عمر ایک ہزار سال ہوگی

شیعہ مجتہد قاضی نور اللہ شوشتری اپنی معرکہ الارا کتاب انوار نعمانیہ کے صفحہ، 160 پر لکھتا ہے:

جب سیدنا مہدی کا ظہور ہوگا اس وقت امام کے نور سے پوری دنیا روشن ہو جائے گی، ہر شیعہ کی عمر ہزار سال ہوگی ان کے ہاں ہر سال ایک لڑکا پیدا ہوگا۔

(بحوالہ شیعہ مذہب اور اسلام کا تقابلی مطالعہ)

اسلام:ظہور مہدی کے وقت کسی قسم کے چشمے کے اجراء کا کوئی ذکر نہیں:

حضرت محمد المہدی کی پیدائش مدینہ منورہ میں اور ظہور مکہ مکرمہ میں ہوگا ان کی علامات میں کسی بھی جگہ کسی قسم کے چشمے اور نہروں کے جاری ہونے کا احادیث و آیات میں کوئی ذکر نہیں۔(از مؤلف)

شیعیت:ظہور (مہدی بارہویں امام) کے وقت کوفہ کی مسجد سے گھی اور دودھ کے چشمے جاری ہوں گے:

انوار نعمانیہ صفحہ 160 پر ہے: ظہور امام کے وقت کوفہ کی جامع مسجد سے گھی کا ایک چشمہ اور دودھ کی ایک نہر جاری ہوگی ان کے ساتھ ایک پانی کا چشمہ بھی جاری ہوگا۔  

حضرت مہدی کے ظہور کے بعد ان کے کارنامے:

حضرت مہدی کے ظہور کے بعد کا پہلا کام سفیانی لشکر سے معرکہ آرائی ہوگا:

عن ام سلمه رضی اللہ عنہا ثالث قال رسول اللهﷺ يبايع لرجل من امى بين الركن والمقام كعدہ اهل بدر فياتی عصب العراق و ابدال الشام فياتيهم جيش من الشام حتى اذا كانوا بالبيداء خسف بهم ثم يسير اليه رجل من قريش اخواله كلب فيهزمهم الله قال و كان يققال ان الخائب من خاب من غنيمة كلب۔

(از مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 431)

ترجمہ: حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے لوگ ایک شخص (مہدی) سے رکن حجرا اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان اہلِ بدر کی تعداد کے مثل یعنی 313 افراد بیعت خلافت کریں گے بعد ازاں اس خلیفہ کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال آئیں گے بیعتِ خلافت کی خبر مشہور ہو جانے پر اس خلیفہ سے جنگ کے لیے ایک لشکر شام سے روانہ ہوگا یہاں تک کہ یہ لشکر جب (مکہ مدینہ کے درمیان) بیداء میں پہنچے گا زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا اس کے بعد ایک قریشی النسل جس کی ننہال کلب میں ہوگی (مراد سفیانی) چڑھائی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی شکست دے گا آنحضرتﷺ نے فرمایا اس وقت کہا جائے گا آج کے دن وہ شخص خسارے میں رہا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔

(از مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 431)

شیعیت:ظہور امام کے بعد پہلا کام علماء اہل سنت کا قتل عام ہوگا:

حق الیقین جلد اول صفحہ 527 میں شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:

وقتيكہ قائم عليہ السلام ظاهری شود پيش از كفار ابتدانیہ سنیان خواهد كرد باعلماء ايشان و امتیانرا خواہد كشت۔  

 ترجمہ: جس وقت امام قائم علیہ السلام ظاہر ہوں گے سب سے پہلے ان کے سامنے سنی کفار کو ان کے سامنے پیش کیا جائے گا ان میں علماء کو قتل کیا جائے گا"۔  

(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ، 435)

اسلام:

حضرت محمد مہدی آنحضرت ﷺ کے پیروکار اور تابع ہوں گے:

ابتداء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاں ہوں گے خود امامت کرائیں گے کیونکہ ان کا درجہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ نہ ہوگا سیدنا مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت محمدﷺ کے امتی اور پیروکار کی حیثیت سے آئیں گے سیدنا مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے سات سال تک حکمران رہ چکے ہوں گے انہی کی زندگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔  

(از کنز العمال: جلد 7 صفحہ268، 

مجمع الزوائد: جلد7 صفحہ 349)

شیعیت:

امام قائم (بارہواں امام) آل محمد نئی شریعت لائیں گے اور نئے احکامات جاری کریں گے:

شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی اپنی معرکتہ الآراء بحار الانوار صفحہ 587جلد 13 پر امام مہدی کے ظہور کی علامات میں لکھتے ہیں: 

از امام جعفر صادق عليہ السلام روایت کرده كہ آنحضرت فرمودكه چون قائم عليہ السلام قيام میکند امر تازه و احكام تازه میاورد۔

 ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: جب امام مہدی آئیں گے تو نئی شریعت اور نئے احکام جاری کریں گے۔  

(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ 439)

اسلام:امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملت محمدیہ پر ہوں گے:

امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بیہقی نے البعث میں حضرت عبد اللہ بن مغفل سے صحیح روایت نقل کی ہے: آنحضرتﷺ نے فرمایا جتنا عرصہ خدا کو منظور ہوگا دجال تم میں ٹہرے گا پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور میری تصدیق کریں گے اور میرے دین پر ہوں گے وہ اور امام ہدایت یافتہ حاکم عادل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

(الحادی للفتاویٰ: جلد2 صفحہ156)

شیعیت:

امام مہدی (بارہواں امام) دعوی نبوت کریں گے:

ملا باقر مجلسی کی کتاب بحار الانوار جلد 13، صفحہ 550 کی عبارت ملاحظہ ہو:  

آنحضرتﷺ فرمود در وقتیکہ امام قیام میکند ایں آیت تلاوت میفر مايد ففرت منكم لما خفتكم فوهب لى ربى حكما و جعلنى من المرسلين یعنی از شما گریختم در و قتیکہ از شمانر سیدیم پس پروردگار من شریعتی و نبوتی بمن عطا فرمود۔

صفحہ 1 از 2