آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت…

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت نامہ لکھوانے کا ارادہ کیا تھا اس کی حقیقت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اور ابن حجر (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔ وغیرہ اسی بات پر قائل ہیں اور آپﷺ کے بعد کے عمل سے سیدنا عمر فاروقؓ کے اسی اجتہاد کی تصدیق و توثیق بھی ہوئی، نبی کریمﷺ نے اس مرض سے شفا پانے کے بعد پھر کچھ نہ لکھوایا، اگر اس کا لکھوانا، واجب ہوتا تو صحابہ کرامؓ کا اختلاف اس راستہ میں رکاوٹ نہ بنتا، کیونکہ کسی مخالف کی مخالفت سے آپﷺ اسلام کی تبلیغ سے رک جانے والے نہ تھے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو بھی سیدنا عمر فاروقؓ کے ’’موافقات شرع‘‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔

اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کا یہ کہنا کہ ’’ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘درحقیقت اس شخص کی مخالفت ہے جو حضرت عمر فاروقؓ سے حجت کر رہا تھا نہ کہ اس میں رسول اللہﷺ کے کسی حکم کی مخالفت ہے، کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ کے الفاظ ہیں: عِنْدَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ

گویا حضرت عمر فاروقؓ کے مخاطب کئی لوگ تھے جو آپ کی رائے کی مخالفت کر رہے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ گہری نظر اور درست رائے کے مالک تھے، چونکہ غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپﷺ کا فرمان فوری طور سے واجب العمل کا متقاضی نہیں ہے اس لیے آپ نے ایک قوی اور شرعاً راجح مصلحت کو مقدم کرتے ہوئے وصیت نامہ کی تحریر پرزور دینے سے منع کیا اور وہ مصلحت یہ تھی کہ مرض کی شدت میں آپﷺ سے کچھ لکھوانا آپﷺ پر شفقت اور محبت کے خلاف اور ایک نامناسب عمل ہے حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہﷺ کے مرض کی شدت کو جن الفاظ میں تعبیر کیا ہے وہ حضرت عمر فاروقؓ کے اجتہاد کے برمحل اور درست ہونے کی قوی دلیل ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایاتھا: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم قَدْ غَلَبہُ الْوَجَعُ۔ یعنی آپﷺ سخت تکلیف سے دوچار ہیں، لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ ایسی حالت میں آپﷺ کو مزید پریشانی اور تکلیف میں ڈالا جائے،

(الشفاء: جلد 2 صفحہ 888)۔

ساتھ ہی حضرت عمر فاروقؓ کے ذہن میں یہ آیت کریمہ بھی گردش کررہی تھی۔ 

مَّا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِن شَیْءٍ (سورۃ الأنعام: آیت 38)

’’ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔‘‘

اور ارشاد الہٰی ہے:

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (النحل : 89)

’’اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔‘‘

علامہ نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: شارحین حدیث نے سیدنا عمر فاروقؓ کی اس رائے کو بالاتفاق ان کے تفقہ فی الدین کے دلائل، مناقب وفضائل اور دقت نظری میں شمار کیا ہے۔ 

(شرح النووی: جلد 11 صفحہ 90) الانتصار للصحب والال: صفحہ 289۔291)

نیز واضح رہے کہ سیدنا عمرؓ وصیت نامہ کی عدم تحریر پرزور دینے میں ایک مجتہد تھے اور ’’مجتہدفی الدین‘‘ کی غلط رائے بہرحال قابل عفو ہے، بلکہ قول رسول اللہﷺ: إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَہُ أَجْرَانِ وَإَِذا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَہُ أَجْرٌ (صحیح البخاری: حدیث نمبر 7352) ترجمہ: جب کوئی حاکم فیصلہ دیتے وقت اجتہاد کرے، اور درست رائے کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور جب فیصلہ کیا اور اجتہاد میں غلطی کر گیا تو اسے ایک اجر ملے گا۔(مترجم)

کے مطابق اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ تو حضرت عمر فاروقؓ کو اس سلسلہ میں کیوں متہم کیا جاتا ہے، جب کہ حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں اجتہاد کیا لیکن آپﷺ نے ان کی نہ کوئی مذمت کی، نہ گناہ گار کہا، بلکہ اپنے عمل سے اس کی موافقت ہی کی۔

 بہرحال اس واقعہ کے سہارے روافض شیعہ صحابہ کے خلاف جو بھی بدزبانی اور طعن کرتے ہیں وہ سب غلط ہیں، اور ان کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔

(الانتصار للصحب والآل: 294،295)۔


صفحہ 4 از 4