آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت…

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت نامہ لکھوانے کا ارادہ کیا تھا اس کی حقیقت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

3۔ حدیث کے آخر میں ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ لوگوں نے شور و شغب کر کے آپﷺ کو کچھ لکھنے نہ دیا۔ (صحیح البخاری: 4432)۔

اس قول کی تشریح میں ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: 

’’اس وصیت کے لکھنے میں جو چیز حائل ہوئی وہ بڑی مصیبت تھی، لیکن ان کے حق میں مصیبت تھی جنھوں نے خلافتِ صدیقی کے بارے میں شک کیا اور یہ مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا۔ اگر کوئی وصیت نامہ ہوتا تو یقیناً اس کا شک زائل ہو جاتا اور مصیبت دور ہو جاتی، رہا وہ شخص جسے کامل یقین ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت برحق اور مکمل ہے الحمداللہ ایسے شخص کے لیے کوئی مصیبت نہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 25)۔

اس مفہوم کی توضیح و تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات اس وقت کہی جب خوارج و روافض جیسے اہل بدعت اور نفس پرستوں کا ظہور ہو گیا، ابن تیمیہؒ (منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 316) ۔

اور ابن حجرؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ 

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔

4: مذکورہ حدیث کی روشنی میں بعض روافض کا یہ دعویٰ ہے کہ آپﷺ اس وصیت نامہ میں حضرت علیؓ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ دعویٰ بھی باطل ہے۔ ابن تیمیہؒ اس دعویٰ کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’جسے یہ وہم ہو کہ یہ وصیت نامہ علیؓ کی خلافت کے بارے میں لکھا جانا تھا، وہ علمائے اہل سنت والجماعت، اور علمائے روافض شیعہ دونوں کے عقیدہ کے مطابق بالا تفاق گمراہ اور جاہل ہے، اہل سنت تو اس پر متفق ہی ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ خلیفۂ اوّل، اور سب سے افضل تھے اور شیعانِ علی جو کہ حضرت علیؓ کو امامت کا اولین مستحق قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے بہت پہلے بالکل واضح اور معروف طریقہ سے آپ کو امامت کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے، ایسی صورت میں آپ کے استحقاق کے اثبات کے لیے کسی وصیت نامے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 25) الانتصار للصحب والال: صفحہ 281، 282، 283)۔

5۔ اس حدیث کے حوالہ سے روافض شیعہ سیدنا عمر فاروقؓ پر طعن کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے عمر (رضی اللہ عنہ) نے ’’أَھَجَرَ‘‘ کہہ کر نبی کریمﷺ پر بےمعنیٰ کلام کرنے کی تہمت لگائی اور آپﷺ کی بات نہ سنی، اور کہا کہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ’’أَھَجَرَ‘‘ کے لفظ کے نسبت حضرت عمرؓ کی طرف کرنا یکسر غلط اور باطل ہے۔ یہ بات اس موقع پر جو لوگ حاضر تھے ان میں سے کس نے کہی تھی؟ صحیحین کی روایات سے اس کے قائل کی تعیین نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے الفاظ (فَقَالُوْا: مَاشَأْنُہُ أَھَجَرَ)میں قائل کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے، لہٰذا عمرؓ کو اس کا قائل نہیں مانا جاسکتا ہے۔ حافظ ابن حجرؓ فرماتے ہیں: ’’میرے خیال میں ایک تیسرا احتمال راجح ہے جسے قرطبی نے ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ ایسی بات کسی ایسے شخص نے کہی ہوگی جو نو مسلم رہا ہوگا، اور وہ پہلے سے جانتا رہا ہوگا جو شخص سخت مصیبت اور الجھن سے دوچار ہوتا ہے وہ اس وقت میں اپنا اصلی مقصد اچھی طرح سے تحریر نہیں کروا پاتا۔‘‘

(فتح الباری: 8 صفحہ 133)۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات عمرؓ نے کہی تھی جب کہ اکثر روایات میں قائل کے لیے جمع کا صیغہ ’’قَالُوْا‘‘ وارد ہوا ہے۔‘‘

(مختصر التحفہ والاثنا عشریۃ: صفمحہ 250)۔

درحقیقت اس سلسلہ میں روایات جو صحیح اورثابت ہیں اس میں یہ کلمہ صیغۂ استفہام کے ساتھ یعنی ’’أَھَجَرَ‘‘  وارد ہے اور جن روایات میں ’’ہَجَرَ‘‘ یا ’’یَھْجِرُ‘‘ کے الفاط ہیں، وہ روایات محدثین و شارحین حدیث مثلاً قاضی عیاض، (الشفاء: جلد 2 صفحہ 886)۔

قرطبی، (المفہم: جلد 4 صفحہ 559)

 نووی، (شرح صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 93)۔

اور ابن حجر (فتح الباری: جلد 8 صفحہ 133)۔

وغیرہ کے نزدیک مرجوح ہیں۔

ان محدثین نے صراحتاً یہ بات لکھی ہے کہ حاضرینِ مجلس میں سے جب کسی نے کہا کہ نہ لکھو (الانتصار للصحب والآل: صفحہ 288)۔

تو ’’أَھَجَرَ‘‘ کے قائل نے استفہام انکاری کا یہ صیغہ استعمال کیا۔

(یعنی نبی کریمﷺ بےاختیار کلام نہیں کر رہے۔ (مترجم)

امام قرطبی رحمۃاللہ علیہ نے تبلیغ دین اور دیگر تمام احوال میں غلطیوں سے نبی کریمﷺ کی عصمت اور اس پر صحابہ کرامؓ کے اتفاق کے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ آپﷺ کی سخت بیماری کی حالت میں آپ کے قول کی صداقت میں کسی شک کی بنا پر انھوں نے یہ بات کہی ہو، بلکہ جب قلم اور دوات لانے والے نے لانے میں تردد کیا اور اس سے پیچھے ہٹا، تو انھیں میں سے بعض لوگوں نے انکار و توبیخ کے طور سے یہ بات کہی، گویا ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ تم لکھنے کا سامان کیوں نہیں لاتے، کیا سمجھتے ہو کہ آپﷺ غیر اختیاری بات نہیں کریں گے، تردد نہ کرو، اور سامان کتابت حاضر کرو، آپﷺ ہر حال میں حق کہیں گے، بےمعنیٰ کلام نہیں کریں گے۔ (المفہم: جلد 4 صفحہ 559)۔

تو یہ واضح دلیل ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ نبی کریمﷺ سے ہذیان گوئی کے وقوع کو بالکل ناممکن سمجھے تھے، اسی وجہ سے جنھوں نے یہ جملہ استعمال کیا لازمی انکار کے لیے استعمال کیا، تاکہ مخالف کے لیے کس طرح سے شک وشبہہ کی گنجائش نہ نکلے اور اسی مفہوم سے روافض کا دعویٰ بھی باطل ہو جاتا ہے۔ (الانتصار للصحب والآل: صفحہ 289)۔

6: روافض کا یہ دعویٰ کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے یہ کہہ کر ’’ تمھارے پاس اللہ کی کتاب ہے، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘ رسول اللہﷺ سے معارضہ کیا، اور وصیت نامہ لکھوانے سے متعلق نبی کریمﷺ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ اس بےبنیاد تہمت کا جواب یہ ہے کہ جنابِ عمر فاروقؓ اور آپ کے ہم خیال دیگر صحابہ کرامؓ کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وصیت نامہ تحریر کروانے سے متعلق آپﷺ کا حکم و جوبی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں خلافت سے متعلق بہترین اقدام کی طرف رہنمائی مقصود ہے، اس لیے انھوں نے مخالفت کی، قاضی عیاض، (الشفاء: جلد 2 صفحہ 887)۔

قرطبی، (المفہم: جلد 2 صفحہ 559)۔

نووی، (شرح النووی: جلد 11 صفحہ 91)۔ 

صفحہ 3 از 4