آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت…

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت نامہ لکھوانے کا ارادہ کیا تھا اس کی حقیقت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

چونکہ آپﷺ اس خیانت سے بالکل پاک تھے، اور تزکیۂ الہٰی: لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏۞ (سورۃ التوبہ آیت 128)

(ترجمہ: تمھارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں، جو تمھاری جنس سے ہیں جن کو تمھاری مضرت کی بات بہت گراں گزر تی ہے، جو تمھاری منفعت کے بڑی خواہش مند رہتے ہیں۔ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔)

کے بموجب ایسی تہمتوں سے بالکل بری تھے، اس لیے اللہ نے آپ کے قلبی رجحان کو یوں تعبیر کیا کہ آپ (ﷺ) اپنی امت پر حریص ہیں، یعنی امت کی ہدایت اور اس کے دنیوی و اخروی نفع رسانی کے لیے خواہش مند ہیں۔(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 404)

تمام مسلمانوں کو اس بات پر یقین ہے، اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان کی رمق ہو گی اسے بھی شک نہ ہوگا کہ نبی کریمﷺ نے اللہ کے تمام تر احکامات کو پہنچا دیا، اور وہ اپنی امت کی خیر خواہی کے ہمیشہ خواہش مند تھے جیسا کہ آپ کی مجاہدانہ زندگی، قربانیاں اور ترغیب و تشجیع کے اقوال و واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں، تو جب آپﷺ کی یہ دیانت داری اور خیرخواہی ہر خاص و عام کے نزدیک مسلّم ہے تو ہمیں اس بات پر یقین کرنا چاہیے کہ اگر وہ وصیت نامہ اتنا اہم ہوتا جس سے پوری امت گمراہی سے بچ جاتی اور قیامت تک کے لیے اس میں کوئی اختلاف واقع نہ ہوتا، تو عقلاً اور نصًا کسی اعتبار سے یہ بات ہرگز سمجھ میں نہیں آتی کہ آپﷺ اسے اپنی زندگی کے اس تنگ وقت تک کے لیے مؤخر کیے رہتے اور اگر مؤخر بھی کیا تھا تو محض چند صحابہؓ کے اختلاف کی وجہ سے اسے بیان نہ کرتے۔

(مختصر تحفۃالاثنا عشریۃ: صفحہ 251)، الإنتصار للصحب والآل: صفحہ 228، 229) 

ایسا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپﷺ اپنے رب کے فرمان کی تبلیغ چھوڑ دیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے اس وقت نہیں لکھوایا، تو بعد میں اسے لکھوانے سے کون سی چیز مانع رہی کیونکہ اس کے بعد مزید چند دنوں یعنی دو شنبہ تک آپ باحیات رہے، جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں سیدنا انسؓ سے ثابت ہے۔

(صحیح البخاری: 4448)، صحیح مسلم: 419)۔

جب کہ بالاتفاق وصیت نامہ لکھوانے کا واقعہ جمعرات کا ہے۔

(الإنتصار للصحب والآل: 329)۔

اور اس پر بھی روافض اور اہل سنت سب متفق ہیں کہ پھر اپنی وفات تک آپﷺ نے کچھ نہیں لکھوایا، پس یقینی طور سے ہمیں ماننا پڑے گا کہ جس چیز کو آپﷺ لکھوانا چاہتے تھے، وہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کی تبلیغ کے لیے آپ مامور رہے ہوں، کیونکہ قرآن کے بیان کے مطابق اللہ نے اس واقعہ سے قبل حجۃ الوداع کے موقع پر ہی دین کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا تھا:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ (سورۃ المائدۃ آیت 3)

ترجمہ: آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔‘‘

امام بن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ وصیت نامہ لکھوانے کا حکم الہٰی ہوتا تو آپﷺ اسے لکھواتے یا اسی وقت بتاتے، اگر ایسی بات ہوتی تو آپﷺ اس کی بجا آوری سے ہرگز باز نہ آتے، آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت سے متعلق متوقع نزاع کے ازالہ کی مصلحت سے کچھ لکھوانا چاہا تھا، لیکن جب آپﷺ کو انداز ہ ہوگیا کہ اختلاف ہونا ہی ہے تو آپﷺ خاموش ہو گئے۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 316)

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

’’اس تحریر یا وصیت نامہ کا واقعہ جیسے اللہ کے رسول اللہﷺ لکھوانا چاہتے تھے، بڑی وضاحت سے صحیحین میں سیدہ عائشہؓ سے یوں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی مرض الموت میں فرمایا: اُدْعِی لِيْ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتَّی اَکْتُبَ کِتَابًا، فَإِنِّيْ أَخَافُ أَنْ یَتَمَنَّی مُتَمَنٍّوَیَقُوْلَ قَائِلٌ: أَ نَا أَوْلَی، وَیَابَی اللّٰہُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ إِلَّا أَبَابَکْرٍ

 ’’اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں وصیت لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ حریص اس کی آرزو کریں گے اور کچھ کہنے والے یہ بھی کہیں گے کہ خلافت کا حق دار میں زیادہ ہوں، مگر ابوبکر کی خلافت کے سوا نہ ہی اللہ کسی کی خلافت کو تسلیم کرے گا اور نہ مسلمان۔‘‘

(صحیح بخاری: 5666، 7217، و صحیح مسلم: 2387)۔

اس کے بعد چند روایات لکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ نے حضرت عائشہؓ سے جس رائے کا اظہار کیا اس کے متعلق وصیت لکھوانے کا عزم کر لیا تھا، لیکن جب آپ نے دیکھا کہ بعض لوگوں کے ذہنوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت سے متعلق شک حائل ہو گیا ہے؟ تو سوچا کہ وصیت نامہ اس شک کو زائل نہیں کر سکتا، لہٰذا وصیت نامہ لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مزید آپﷺ کو اس بات کا بھی علم و یقین ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری ہی خواہش اور عزم کے مطابق مسلمانوں کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر متفق کرے گا، جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا: ابوبکر کی خلافت کے سوا نہ ہی اللہ کسی کی خلافت کو تسلیم کرے گا، نہ مسلمان۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 23۔25)۔

حدیث کا جو آخری ٹکڑا ہے کہ (لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِيْ) میرے بعد گمراہ نہ ہوگے، 

شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے اس کی توجیہ میں فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس چیز کو لکھا جانا تھا اس کا تعلق دین سے نہ تھا تو آپﷺ نے اس کے بارے میں یہ کیوں فرمایا: (لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِيْ) یعنی میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

 تو اس کا جواب یہ ہے کہ گمراہی کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معانی کے لیے مستعمل ہے، یہاں مراد یہ ہے کہ نظامِ مملکت چلانے میں غلطی نہ کرو گے، یعنی جزیرۂ عرب سے مشرکین کو نکالنے، وفود کی خاطر و مدارات کرنے، اور لشکرِ اسامہ کو روانہ کرنے میں میری سیاست پر کار بند رہو گئے اور پھر آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا ہی کیا، یہاں ’’ضلالت‘‘ کا معنیٰ دین سے گمراہی نہیں ہے۔ 

(مختصر التحفۃ الاثنا عشریۃ ص (251)

صفحہ 2 از 4