آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت…

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت نامہ لکھوانے کا ارادہ کیا تھا اس کی حقیقت

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسولﷺ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو گھر میں بہت سے صحابہ کرامؓ موجود تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

ہَلُمُّوْا أَکْتُبُ لَکُمْ کِتَاباً لَا تَضِلُّوْا بَعْدَہُ

 ’’لاؤ میں تمھارے لیے ایک دستاویز لکھ دوں، اگر تم اس پر چلتے رہے تو پھر تم گمراہ نہ ہو سکو گے۔‘‘ 

اس پر بعض لوگوں نے کہا: کہ آپﷺ پر بیماری کی سختی ہو رہی ہے، تمھارے پاس قرآن موجود ہے۔

ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے پھر گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا، بعض نے تو یہ کہا کہ آپﷺ کو کوئی چیز لکھنے کی دے دو کہ اس پر آپ ہدایت لکھوا دیں تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو، بعض لوگوں نے اس کے خلاف دوسری رائے پر اصرار کیا، جب شور و غل اور نزاع زیادہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’قُوْمُوْا‘‘ یہاں سے جاؤ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ( اس کے بعد) کہتے تھے: مصیبت سب سے بڑی یہ تھی کہ لوگوں نے اختلاف اور شور کر کے آپﷺ کو وہ ہدایت نہیں لکھنے دی۔ (صحیح البخاری: حدیث نمبر 4432) ۔

دوسری روایت میں یوں ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: ’’معلوم بھی ہے جمعرات کے دن کیا ہوا تھا ‘‘رسول اللہﷺ کے مرض میں تیزی پیدا ہوئی تھی، اس وقت آپ ﷺنے فرمایا: اِئْتُونِيْ بِکَتِفٍ وَدَوَاۃٍ اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوْا بَعَدَہُ أَبَداً

 ’’شانہ و دوات لاؤ میں تمھارے لیے وصیت نامہ لکھ دوں کہ تم اس پر چلو گے تو اس کے بعد پھر تم کبھی گمراہ نہ ہو گے‘‘ 

لیکن یہ سن کر وہاں اختلاف پیدا ہو گیا حالانکہ نبی کریمﷺ کے سامنے نزاع نہ ہونا چاہیے تھا۔ بعض لوگوں نے کہا کہیں آپﷺ شدتِ مرض کی وجہ سے بےمعنیٰ کلام تو نہیں فرما رہے ہیں؟ بات سمجھنے کی غرض سے آپ سے دوبارہ استفسار کر لو، تو آپﷺ سے صحابہؓ پوچھنے لگے، آپﷺ نے فرمایا: دَعُوْنِيْ فَالَّذِيْ أَنَا فِیْہِ خیرْ ٌمِمَّا تَدْعُوْنَنِيْ إِلَیْہِ ’’یہاں شورو غل نہ کرو، جس کام میں مشغول ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو‘‘

 اس کے بعد آپﷺ نے صحابہ کو تین چیزوں کی وصیت کی، فرمایا:

 أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَأَجِیْزُوْ الْوَفَدَ بِنَحْوِ مَاکُنْتُ أُجِیْزُہُمْ۔

 ’’مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو، وفد (جو قبائل کے تمھارے پاس آئیں) ان کی اس طرح خاطر کیا کرنا جس طرح میں کرتا آیا ہوں‘‘ اور تیسری بات (ابن عباس نے یا سعید نے) بیان نہیں کی، یا (سعید بن جیر یا سلیمان نے کہا) میں تیسری بات بھول گیا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4431) ۔

اس حدیث اور اس کے مضمون پر مشتمل دیگر احادیث میں صحابہ کرامؓ کے اختلاف اور شورو شغب سے متعلق جو کچھ مذکور ہے اور جسے روافض اپنے طعن وتشنیع کا ہدف بناتے ہیں درحقیقت ان کے تمام تر اعتراضات یکسر فاسد و باطل ہیں، متقدمین علماء نے اس سے متعلق ان کے چند اہم اعتراضات کی تردید کی ہے اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا ہے۔

1: بلاشبہ صحابہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کی بات سمجھنے اور اس کا معنیٰ متعین کرنے میں ان کی آراء مختلف رہیں۔ حکم نبوی سے سرتابی کی وجہ سے اختلاف کبھی نہ رہا۔

 امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ میں اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اجتہاد کیا اور نیک نیتی سے اجتہاد کیا، اس اجتہاد میں دونوں فریق حق پر رہے یا ایک درست رائے تک پہنچا اور دوسرا اس سے قاصر رہا ایسی صورت میں درست رائے تک جس کی رسائی نہ ہوسکی وہ گناہ گار نہ ہوگا بلکہ وہ بھی نیک نیتی سے اجتہاد کی بنا پر ثواب کا مستحق ہوگا۔ آگے فرماتے ہیں: وصیت نامہ کے بارے میں اختلاف ہو جانے پر اللہ کے رسولﷺ نے کسی کی کوئی سرزنش نہیں کی اور نہ ہی برا بھلا کہا، بلکہ سب سے کہا:

دَعُوْنِيْ فَالَّذِيْ أَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُوْنَنِيْ إلَیْہِ

 ’’( یہاں شور وغل نہ کرو) جس کام میں مشغول ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو۔‘‘ 

یہ واقعہ ایسے ہی ہے جیسا کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر پیش آیا تھا۔ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے کہا: لَایُصَلِّیَنَّ أَحَدٌ العَصْرَ إِلَّا فِيْ بَنِيْ قُرَیْظَۃَ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 4119)۔ 

 ’’تم لوگ بنوقریظہ کے پاس پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھو۔‘‘ 

چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے بنوقریظہ پہنچنے سے پہلے ہی اس خوف سے نماز پڑھ لی کہ نماز کا وقت نہ ختم ہو جائے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں وہاں پہنچ کر ہی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اس لیے ہم وہیں پڑھیں گے۔ لیکن اس اختلاف کے باوجود کسی نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔

(المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم: جلد 4 صفحہ 559)۔ 

2: روافض کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کا آپس میں اختلاف اور اس کے نتیجہ میں نبی کریمﷺ کے وصیت نامہ کا وجود میں نہ آنا۔ دو ایسی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے پوری امت مسلمہ فساد کا شکار ہوئی اور وہ معصوم نہ رہ سکی۔

روافض کا یہ اعتراض یکسر باطل ہے، کیونکہ اس کا لازمی مفہوم یہ ہوا کہ نبی کریمﷺ نے ایسی بعض باتوں کی تبلیغ نہیں کی جس سے امت گمراہی سے محفوظ رہ سکتی تھی اور اپنے پاس محض صحابہ کرامؓ کے اختلاف کو دیکھ کر اللہ کی شریعت کو چھپا لیا اور اسی پر موت ہو گئی حالانکہ یہ مفہوم قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کے صریح مخالف ہے:

يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَتَهٗ‌وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ۞ (سورۃ المائدة آیت 67)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

صفحہ 1 از 4