بوہروں کا جنازہ پڑھنے کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

بوہروں کا جنازہ پڑھنے کا حکم


سوال: بوہرے لوگوں کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ انہوں نے بسم اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ہے ہم نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا تھا کہ تم کیا پڑھ کر ذبح کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم ذبح کے وقت بسم اللہ اکبر پڑھتے ہیں عقائد میں یہ لوگ شیعہ سے بھی زیادہ خراب اور گندے ہیں نیز ان کی دعوت قبول کرنا اور انہیں سلام کرنے میں پہل کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب: اگر کسی شخص یا فرقے کے متعلق یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہے تو وہ شخص یا فرقہ اسلام سے خارج شمار کیا جائے گا، اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ چند ضروریاتِ دین یہ ہیں: 

1: قرآنِ کریم کا مکمل صحیح سالم غیر محرف ہونا۔ 

2: حضورِ اکرمﷺ کا خاتم النبیین ہونا۔ 

3: حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عفت و پاک دامنی کا اعتقاد رکھنا۔ 

4: اس بات کا ماننا کہ کوئی انسان الوہیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ 

اب اگر اس کے خلاف کوئی اعتقاد رکھے تو اسے ضروریات دین کا منکر کہا جائے گا اور ایسا شخص ایمان سے نکل جائے گا مثلاً تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھنا، حضراتِ شیخینؓ کی خلافت کا انکار کرنا، عائشہ صدیقہؓ پر نعوذ باللہ بدکاری کی تہمت لگانا یا حضرت علیؓ کے متعلق الوہیت کا اعتقاد رکھنا یا یہ کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی۔ 

شیعہ کے 22 فرقے ہیں، ان میں سے ایک یا دو فقط مسلمان ہیں، بقیہ فرقے مذکورہ باتوں کی بناء پر ایمان سے خارج ہیں، ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو مرتدین اور کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين۔

لہٰذا ان سے ملاقات کے وقت سلام میں پہل نہ کرنا چاہیے: عن ابی هريرة أن رسول اللہﷺ قال: لا تبدءوا اليهود والنصارىٰ بالسلام واذا لقيتم احدهم فى الطريق فاضطروهم الى اضيقه۔ 

اور جواب میں بھی قدرِ ضرورت پر اکتفاء کرنا چاہیے ان رسول اللہﷺ قال: اذا سلم عليكم اهل الكتاب فقولوا وعليكم۔ 

کے علاوہ کوئی تعظیم کا فعل وہ خود کریں تو اس کی مکافات بقدر شروع کرنا چاہیے نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اگرچہ بسم اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کریں، نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ ان سے نکاح کیا جائے گا۔

وفی الدر المختار مع رد المحتار: لا تحمل ذبيحة غير كتابی من (وثنی ومجوسی ومرتد)

وقال الله تعالى: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏ ۞

(سورۃ التوبہ: آیت 84)

 وقال الله تعالىٰ: وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 221)

 ایسے ہی عیادت تعزیت تہنیت مبارک بادی اور دعوت قبول کرنے میں صرف اسی قدر مکافات اور برابری کا لحاظ رکھنا چاہیے، جس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ 

شامی میں ہے: لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی على او ان جبريل عليه السلام غلط فى الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔

فتاوىٰ عالمگیری میں ہے: الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما و العياذ بالله فهو كافر و ان كان يفضل علياً على ابی بكر لا يكون كافرا الا انه مبتدع ولوقذف عائشة بالزنا كفر بالله من انكر ابی بكر الصديق فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح انه كافر، وكذلك من انكر خلافة عمر فی اصح الاقوال۔

(فتاوىٰ فلاحیہ: جلد1 صفحہ 259)