نبی اکرمﷺ کو نہلانے اور دفن کرنے کا شرف سیدنا علی رضی اللہ…

نبی اکرمﷺ کو نہلانے اور دفن کرنے کا شرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں

  علی محمد محمد الصلابی

نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کو غسل دلانے میں فضل بن عباس اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما وغیرہ کے ساتھ جنابِ علیؓ بھی شریک رہے۔

(سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 3209) مرسل بروایت شعبی امام البانی نے أحکام الجنائز صفحہ 51) پر اسے صحیح کہا ہے۔)

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو غسل دیا، دیکھنے لگا کہ شاید میت کو موت کے وقت بسا اوقات جو نجاست وغیرہ نکل آتی ہے، آپ کو بھی ہو، لیکن میں نے کچھ نہ دیکھا، آپﷺ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں پاک صاف تھے۔

(سنن ابن ماجہ: جلد 1 صفحہ 362) حدیث نمبر (1467) امام البانی نے احکام الجنائز صفحہ 50 پر اسے صحیح کہا ہے۔)

اور فرمایا: ’’اے پاک ذات! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپﷺ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں پاکیزہ رہے۔‘‘

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 4 صفحہ 321)

 سیدنا علیؓ ان لوگوں میں سے ایک تھے جو رسول اللہﷺ کی تدفین کے لیے آپﷺ کی قبر میں اترے، اس میں شرکت کرنے والوں میں سیدنا علیؓ کے علاوہ فضل بن عباس، قثم بن عباس اور رسول اللہﷺ کے غلام شقران رضی اللہ عنہم بھی تھے۔

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 4 صفحہ 321)۔ 

رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر صحابہ کرامؓ پر بجلی بن کر گری، یہ حضرات آپﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ اور دل سے شیدا و فریفتہ تھے، وہ آپﷺ کی آغوشِ تربیت میں اس طرح رہے جیسے شفیق باپ کی آغوش میں اس کے بچے ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ ان پر قیامت گزر گئی، قدرتاً آپﷺ کی جدائی کا غم آپﷺ کے اہل بیت، خاندان ہاشمی خصوصاً سیدہ فاطمہؓ اور علیؓ پر سب سے زیادہ تھا یہ قانون قدرت اور فطرت سلیم کا تقاضا تھا، پھر رشتہ کا قرب، دل کی نرمی اور گداز احساسات کی نزاکت اور محبت کا وفور مستزاد، لیکن انھوں نے اس جاں گداز حادثہ کو اللہ داد قوت ایمانی اور تسلیم و رضا کے اس جذبہ سے جو تربیتِ نبوی کا فیض اور ان کا خاندانی شعار تھا، برداشت کیا۔ 

(المرتضیٰ الندوی: صفحہ 59) ۔