سیدنا علی رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع میں
علی محمد محمد الصلابیحجۃ الوداع میں سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ سے آ کر مل گئے، آپ نے قربانی کے دن اپنے دست مبارک سے (63) اونٹ نحر کیے۔ 63 کا عدد آپﷺ کی عمر کے مطابق تھا۔ 63 اونٹ نحر کرنے کے بعد آپﷺ رک گئے اور سو (100) میں جو باقی رہ گئے تھے، وہ حضرت علیؓ کے سپرد کر دیے کہ وہ آپ کی طرف سے ذبح کریں، چنانچہ حضرت علیؓ نے اس کی تکمیل کی اور عدد مکمل کر دیا۔
(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 57، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپﷺ اپنے ہاتھ سے سات اونٹ نحر کیے۔ حدیث نمبر 1712) اور گوشت کے تقسیم کی ذمہ داری سیدنا علیؓ کو سونپی۔ حدیث نمبر 7118)
سیدنا عل اس واقعہ کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسولﷺ عرفہ میں ٹھہرے، اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو بٹھائے ہوئے تھے، آپﷺ نے فرمایا:
ہَذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ۔
’’یہ میرے وقوف کرنے کی جگہ ہے ویسے پورا عرفہ وقوف کرنے کی جگہ ہے۔‘‘
پھر آپﷺ عرفہ سے اپنی سواری کو تیز رفتار سے چلاتے ہوئے نکلے اور لوگ بھی آپﷺ کے دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو تیزی سے ہانکتے ہوئے تیز چلے، اللہ کے رسولﷺ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے : أَیُّہَا النَّاسُ اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ اَلسَّکِیْنَۃَ ’’اے لوگو! وقار و سکون کی چال چلو۔‘‘
اس طرح آپﷺ مزدلفہ پہنچے، مغرب اور عشاء دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا، اور مزدلفہ میں قیام کرتے ہوئے ایک بلند مقام پر قیام فرمایا اور اپنے پیچھے فضل بن عباس کو سوار کیا اور فرمایا:
ہَذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ
یہ میرے وقوف کرنے کی جگہ ہے ویسے پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔
پھر اپنی سواری کو ہانکا اور کچھ تیز چلے، لوگ بھی آپﷺ کے دائیں بائیں اونٹوں کو تیزی سے ہانکتے اور چلتے۔ آپﷺ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: اَلسَّکِیْنَۃَ، اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ
’’اے لوگو! پرسکون اور وقار کے ساتھ چلو۔‘‘
اس طرح آپﷺ جب وادی محسَّر پہنچے تو اپنی سواری کو تیزی سے مارا، وہ کودتے ہوئے آگے بڑھی یہاں تک کہ آپﷺ اس وادی کو پار کر گئے، پھر آپﷺ اپنی رفتار پر واپس لوٹ آئے اور منیٰ پہنچ کر جمرہ کی رمی کی، پھر منحر (قربان گاہ) آئے اور کہا: یہ میری قربان گاہ ہے ویسے پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے۔ اسی دوران آپﷺ کے پاس قبیلہ خثعم کی ایک نوخیز عورت آئی، اور کہا، میرے باپ بہت بوڑھے اور لاغر ہو چکے ہیں، اور ان پر فریضۂ حج واجب ہو چکا ہے، حالانکہ وہ حج کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کے لیے کافی ہو جائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اور پھر آپﷺ فضل بن عباس کا چہرہ اس لڑکی کی طرف سے پھیرنے لگے۔ پھر ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں رمی جمار اور طواف افاضہ سے فارغ ہو کر کپڑا پہن چکا ہوں اور ابھی سر نہیں منڈوایا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، سرمنڈوا لو۔ پھر ایک آدمی آیا اور کہا میں رمی جمار کر کے حلال ہوچکا ہوں، اور لباس پہن لیا ہے اور اب تک قربانی نہیں کی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں قربانی کر لو، پھر اللہ کے رسولﷺ وہاں سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے، مکہ میں آپﷺ نے ایک ڈول میں زمزم کا پانی منگوایا، اسے نوش کیا اور وضو کیا پھر فرمایا: اے آل عبدالمطلب! لو اب تم زمزم کا پانی نکالو، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ( اسے مناسک حج کا حصہ سمجھ کر ) لوگ تم پر غالب آنے لگیں تو میں خود پانی نکالتا، حضرت عباسؓ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ اپنے بھتیجے فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیررہے تھے، ایسا کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا ؟ میں نے ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کو دیکھا تو ان پر شیطان کے حملہ سے میں ڈر گیا۔
(مسند أحمد بن حنبل: الموسوعۃ الحدیثیۃ: جلد 2 صفحہ 9، حدیث نمبر 564) اس کی سند حسن ہے۔
اس حج کے موقع پر حضرت علیؓ نبی کریمﷺ کے احکامات کی تنقیذ میں ترجمان کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔
عمرو بن سلیم اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم منیٰ میں تھے کہ اچانک حضرت علیؓ کو اعلان کرتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
إِنَّ ہٰذِہِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا یَصُوْمُہَا أَحَدٌ، وَاتَّبَعَ النَّاسَ عَلَی جَمَلَِہِ یَصْرَخُ بِذٰلِکَ۔
(مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 567) اس کی سند صحیح ہے۔)
’’یہ (ایام منیٰ) کھانے پینے کے ایام ہیں ان میں کوئی روزہ نہ رکھے آپ اپنے اونٹ پر سوار لوگوں کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے اور وہ بلند آواز سے اس کا اعلان کر رہے تھے۔ ‘‘
