حضرت مولانا مفتی احمد بن ابراہیم بیمات رحمۃاللہ کا فتویٰ(سابق شیخ الحدیث وصدر مفتی دار العلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات صدر جمعیۃ علمائے ہند گجرات شاخ و بانی دار العلوم مدنی دار التربیت کرمالی) اسماعیلی فرقہ کے تدفین وغیرہ میں حصہ لینا
سوال: ہمارے یہاں اسماعیلی فرقہ کے ایک شخص کا انتقال ہوا، اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی، ہندو مذہب کے لوگ حاضر ہوئے، رام اور لکشمن کے نام کے بھجن گائے گئے، پھر اسے قبر کے پاس لے جایا گیا، قبر کے پاس دو بڑے ٹب لائے گئے، ایک خالی تھا اور دوسرے میں مٹی بھری ہوئی تھی، وہاں پر موجود تمام لوگوں نے مٹی پر دم کیا اور اسے خالی برتن میں ڈال دیا، پھر اس مٹی کو لوگوں نے قبر میں ڈالا، وہاں پر موجود ہر ہندو نے ایک برتن میں پانی لے کر قبر پر سر کی جانب سے پیر تک ڈالا، میں بھی وہاں موجود تھا لیکن میں نے ان سارے کاموں میں حصہ نہیں لیا، میرے ان کے اس کام میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے وہ لوگ مجھ سے ناراض بھی ہو گئے، کیا یہ فرقہ مسلمان کہلائے گا؟
جواب:اسماعیلی فرقہ اپنے آپ کو مسلمان گردانتا ہے لیکن ان کے عقائد اسلامی عقائد سے بالکل الگ و یکسر ہیں اگر وہ لوگ رام اور لکشمن کے نام لیتے ہوں، ان کو خدا کے اوتار مانتے ہوں، تو وہ مسلمان نہیں ہیں اسی طرح اگر وہ لوگ اپنے امام کو بھی خدا کا مرتبہ دیتے ہوں کہ اگر ہمارا امام کسی کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام ایک خط لکھ دے گا اور سرٹیفکیٹ دے دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کریں گے اگر یہ لوگ اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں تو مسلمان نہیں ہیں اسماعیلی اور آغا خانی فرقے بھی نبی کریمﷺ کو نبی نہیں مانتے ہیں، اس لیے یہ لوگ بھی مسلمان نہیں ہیں۔ اسماعیلی فرقہ اسماعیل بن جعفر کو اپنا امام مانتے ہیں اور ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کا انتقال نہیں ہوا ہے، ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے یہ فرقہ فرقہ باطنہ کی شاخ ہے علمائے کرام نے لکھا ہے کہ یہ فرقہ یہود و نصاریٰ اور مجوس کے مقابلہ میں بھی مسلمانوں کے لیے زیادہ مضر اور نقصان دہ ثابت ہوا ہے اس لیے آپ نے جو بھی کیا، یعنی وہاں سے الگ رہے اور تدفین کے کام میں اور مٹی پر دم کرنے میں آپ نے شرکت نہیں کی، یہ اچھا کام کیا اور آئندہ بھی ایسے کاموں میں بالکل شرکت نہ کریں، عزت و ذلت کا مالک اللہ رب العزت کی ذات ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔
(فتاویٰ فلاحیہ: جلد1 صفحہ 248)
