غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم…

غزوۂ تبوک کے موقع پر مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی خبر گیری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے

  علی محمد محمد الصلابی

رجب 9ھ میں تبوک کا معرکہ پیش آیا۔ سیرت نبوی میں اس غزوہ کی بڑی اہمیت ہے، اس سے وہ مقاصد و نتائج حاصل ہوئے جو مسلمانوں اور عربوں کی نفسیات و احساسات اور بعد کے پیش آنے والے واقعات وحالات کا رخ معین کرنے میں عمیق اور دیر پا اثرات کے حامل ہیں۔ 

(المرتضیٰ: صفحہ 84، 85 اردو ایڈیشن)

اس غزوہ کے موقع پر رسولﷺ نے مدینہ منورہ کا محافظ (گورنر) محمد بن مسلمہؓ اور اپنے اہل بیت کی دیکھ بھال و خبر گیری کے لیے حضرت علیؓ کو مقرر کیا، پھر کیا تھا؛ ’’منافقوں‘‘ کو حسد و نفاق کی بھڑاس نکالنے کا ایک موقع ہاتھ لگ گیا، انھوں نے سیدنا علیؓ کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں اور یہاں تک کہا کہ نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو صرف اس لیے پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ ’’آپ انھیں اپنے لیے ایک بوجھ سمجھتے تھے‘‘ یقیناً حضرت علیؓ کے حق میں ان کی یہ بےہودہ گوئی ان کی منافقت کی واضح دلیل ہے جیسا کہ صحیح و صریح حدیث ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج سے پودا اگایا اور روح کو زندگی عطا کی، نبی امّیﷺ نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ اِنَّہُ لَا یُحِبُّنِيْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا یُبْغِضُنِيْ اِلَّامُنَافِقٌ۔

 (صحیح مسلم: حدیث نمبر 78)۔

مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا۔ ‘‘

آپ غزوہ میں شرکت کے جذبہ سے سرشار تھے لشکر سے جا ملے اور رسول اللہﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ دیں گے۔ 

آپﷺ نے فرمایا:

أَلاَ تَرْضَیٰ أَنْ تَکُوْنَ مِنِّيْ بِمَنْزِ لَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسَیٰ غَیْرَأَنَّہُ لَا نَبِيَ بَعْدِي۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 2404) 

’’کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ میرے لیے اس مقام پر رہو جس مقام پر ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘