سریۂ علی رضی اللہ عنہ بت شکنی کے لیے بنوطے کی طرف
علی محمد محمد الصلابیاب جب کہ اللہ کے نبیﷺ بیت اللہ الحرام ’’خانہ کعبہ‘‘ کو بتوں سے پاک کر چکے تھے، ضروری تھا کہ ان عمارتوں کو بھی ڈھا دیا جائے، جو ایک لمبے عرصہ سے جاہلی عقائد مراسم کے نشانات تھے۔ (معین السیرۃ: صفحہ 294)۔
چنانچہ آپﷺ نے جزیرۂ عرب کو شرک و آثار جاہلیت سے پاک کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے سرایا کو بھیجنا شروع کیا، سیدنا علیؓ کے حصہ میں اس سریہ کی قیادت آئی جسے بنوطے میں واقع ’’قلس‘‘ نامی بت توڑنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی آپ ربیع الاول کے مہینہ میں ایک سو پچاس (150)انصاریوں کو لے کر ’’قلس‘‘ کو ڈھانے کے لیے بنوطے کی طرف نکلے، ان کے ساتھ سو (100) اونٹ اور پچیس (25) گھوڑے تھے، بڑا جھنڈا سیاہ اور چھوٹا سفید تھا، انھوں نے وہاں پہنچ کر فجر کے ساتھ آل حاتم طائی کے محلہ میں چھاپہ مار کر بت کو ڈھا دیا اور مزاحمت کرنے والوں کو قید کر لیا، غنیمت میں بہت سے غلام، لونڈیاں، اونٹ اور بکریاں ہاتھ آئیں، قیدیوں میں عدی بن حاتم کی بہن بھی تھی، اس کے بھائی عدی بن حاتم شام کی طرف نکل بھاگے۔
(تاریخ الإسلام: الذہبی: صفحہ 624)۔
