چھٹا باب امام مہدی کے بارے میں شیعہ اور مسلمانوں کے نظریات…

چھٹا باب امام مہدی کے بارے میں شیعہ اور مسلمانوں کے نظریات کا تقابلی جائزہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

وہ لوگ جواب دیں گے کہ جب ہم ان کی عنداللہ مقبولیت کے بارے میں پوری طرح جانتے بھی نہیں تھے اس وقت بھی ہم نے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار نہیں کیا تو اب جب کہ ہم نے ان کے مقرب اور مقبول بارگاہِ خداوندی ہونے کی علامت آنکھوں سے دیکھ لی ہے تو ہم کیسے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار کر سکتے ہیں بلکہ اب ہم تم سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں اور ان سب لوگوں سے جو تم پر ایمان لائے اور جنہوں نے تمہارے کہنے سے ان بزرگوں کو قبروں سے نکال کر ان کے ساتھ توہین تذلیل کا یہ معاملہ کیا ہے۔

ان لوگوں کا یہ جواب سن کر امام مہدی کالی آندھی کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں پر چلے اور ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دے پھر امام مہدی حکم دیں گے کہ ان دونوں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی لاشوں کو اتارا جائے پھر ان دونوں کو قدرتِ الٰہی سے زندہ کریں گے۔

و امر فرماید خلائق راهمه جمع شوند پس ہر ظلمے و کفرے از اول عالم تا آخر شد گناہش را بر ایشان لازم اورد و زدن سلمان فارسی و آتش افروختن بدر خانہ امیر المومنین را و فاطمہ و حسن و حسین را برائے سوختن ایشان و زہر دادن امام حسن و کشتن امام حسین و اطفال ایشان و اسیر کردن ذریت رسول و ریختن خون آل محمد ناہر مانے و ہر خونے کہ بناحق ونجتہ شد و ہر فربے کہ بحرام جماع شد و ہر سودے و حرامے کہ خوردہ شد ہر گناہے و ظلمے و جورے کہ واقع شد تا قیام قائم آل محمد همہ را بایشاں بشمارد کہ از شما شدہ و ایشان اعتراف کند زیرا کہ اگر در روز اول غصب حق خلیفہ بحق نمی کرداد نبھائے شد۔ 

پس امر فرما یدکہ از برائے مظالم ہر کہ حاضر باشد از ایشان قصاص نمایند پس ایشان را بفرما یدکہ از درخت بر کشند و آتشے را بفرماید کہ از زمین بیرون اید و ایشان را بسوزاند با درخت و بادے را فرماید کہ خاکستر ایشان را بدریا ہا باشد مفصل گفت اے سید من ایں عذاب ایشاں خواهد بود فرمود کہ ہیهات اے مفصل واللہ کہ سید اکبر محمد رسول اللہ و صدیق اکبر امیر المومنین و فاطمہ زہرا و حسن مجتبیٰ و حسین شهید کربلاء و جمیع ائمہ ہذی ہمگی رندہ خواهند شد و ہرکہ ایمان محض خالص داشتہ و ہرکہ کافر محض بودہ ہمگی زندہ خواہد نمبر راز برائے جمیع ائمہ و مؤمنان ایشاں را عذاب خواهند کرد حتی آنکہ در شبانہ روزے ہزار مرتبہ ایشاں رابکشند و زندہ کرد پس خدا بہرجا کہ خواہد ایشاں را برد و معذب کرداند۔

ترجمہ: اور حکم دیں گے کہ تمام مخلوق جمع ہو پھر یہ ہوگا کہ دنیا کے آغاز سے اس کے ختم تک جو بھی ظلم ہوا اور جو بھی کفر ہوا ان سب کا گناہ ان دونوں پر لازم کیا جائے گا اور انہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا سیدنا سلمان فارسیؓ کو پیٹنا اور سیدنا امیر المومنین علیؓ، سیدہ فاطمہ زہراؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو جلا دینے کے لیے ان کے گھر کے دروازہ میں آگ لگانا اور سیدنا حسنؓ کو زہر دینا اور سیدنا حسینؓ اور ان کے بچوں اور چچا زاد بھائیوں اور ان کے ساتھیوں مددگار کو کربلا میں قتل کرنا اور رسولِ خداﷺ کی اولاد کو قید کرنا اور ہر زمانہ میں آلِ محمد کا خون بہانا اور ان کے علاوہ جو بھی ناحق خون کیا گیا ہو اور کسی عورت کے ساتھ جہاں کہیں بھی زنا کیا گیا ہو اور جو سود یا جو بھی حرام کا مال کھایا گیا ہو اور جو بھی گناہ اور جو ظلم و ستم قائم آلِ محمد یعنی امام غائب کے ظہور تک دنیا میں کیا گیا ہو، اس سب کو ان دونوں کے سامنے گنایا جائے گا اور پوچھا جائے گا یہ سب کچھ تم سے اور تمہاری وجہ سے ہوا ہے"۔ وہ دونوں اقرار کریں گے کہ ہاں ہماری ہی وجہ سے ہوا کیونکہ اگر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد پہلے ہی دن خلیفہ برحق سیدنا علیؓ کا حق یہ دونوں مل کر غصب نہ کرتے تو ان گناہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوتا۔

اس کے بعد صاحب الامر حکم فرمائیں گے جو لوگ حاضر موجود ہیں وہ ان دونوں سے قصاص لیں اور ان کو سزا دی جائے پھر صاحب الامر حکم فرمائیں گے کہ ان دونوں کو درخت پر لٹکایا جائے اور آگ کو حکم دیں کہ زمین سے نکلے اور ان دونوں کو مع درخت کے جلا کر راکھ کر دے اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو دریاؤں پر چھڑک دے۔

مفصل نے عرض کی اے میرے آقا یہ ان لوگوں کو آخری عذاب ہو گا سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اے مفصل ہرگز نہیں خدا کی قسم! حضرت محمد رسول اللہﷺ اور صدیقِ اکبرؓ امیر المومنین سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہ زہراؓ اور سیدنا حسن مجتبیٰؓ اور سیدنا حسین شہید کربلاؓ اور تمام ائمہ معصومین سب زندہ ہوں گے اور جو خالص مومن ہوں گے سب زندہ کیے جائیں گے اور تمام ائمہ اور تمام مومنین کے حساب میں ان دونوں کو عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ دن رات میں ان کو ہزار مرتبہ مار ڈالا جائے گا اور زندہ کیا جائے گا اس کے بعد خدا جہاں چاہے گا ان کو لے جائے گا اور عذاب دیتا رہے گا۔

(بحوالہ ایرانی انقلاب: صفحہ219، از مفکر اسلام حضرت مولانا منظور احمد نعمانی، لکھنؤ انڈیا)


صفحہ 2 از 2