اسلام:
امام مہدی کا نام محمد:
1: ان اسمہ اسم النبیﷺ محمد (از سنن ابی داؤد: کتاب المہدی حدیث صفحہ 2485)
ترجمہ: امام مہدی کا نام حضورِ اکرم ﷺ کے نام پر محمد ہوگا۔
شیعیت:
امام مہدی کا نام: (بے نام بچہ) از اصولِ کافی:
اصول کافی میں سیدنا حسن عسکریؒ کے بیٹے کو بے نام اور بے مکان ثابت کیا گیا ہے حتیٰ کہ کافی ہی اس موضوع پر ایک مستقل باب ہے: باب النہی عن الاسم یعنی سیدنا حسن عسکریؒ کے بچے کا نام لینا ممنوع ہے اس باب میں سیدنا حسن عسکریؒ کے والد بزرگوار کا ارشاد نقل کیا گیا کہ تمہارے لیے ان کے صاحبزادے کا نام حلال نہیں اور سیدنا صادقؒ کے قول کے مطابق جو شخص بھی نام لے گا وہ کافر ہو جائے گا۔
اصول کافی کی دوسری روایت کے الفاظ ملاحظہ ہوں: ظہورِ مہدی (بارہویں امام) کے بعد دنیا بھر میں شیعہ کی حکومت ہوگی اور وہ چار ہزار افراد کو قبروں سے زندہ کریں گے۔
امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ:
1400 سال سے امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی پوری امت میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا مقام سب سے اعلیٰ ہے۔
شیعیت:
حضرت مہدی علیہ الرضوان کے عہد میں جو لوگ زندہ ہوں گے ان کی تعداد چار ہزار ہوگی۔
(از غایۃ المقصود: جلد1 صفحہ178)
شہداء کو بھی رجعت میں ظاہری زندگی دی جائے گی۔ اسی رجعت میں بوعدہ قرآنی آل محمد کو حکومت عامہ عالم دی جائے گی اور زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہ ہوگا جس پر آلِ محمد کی حکومت نہ ہو ایک روایت یہ ہے کہ ہر امام علی الترتیب حکومت کریں گے۔
(از کتاب چودہ ستارے، سید نجم الحسن کراروی: صفحہ 602 مطبوعہ امامیہ کتب خانہ لاہور)
حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا مقام و مرتبہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں:
اقتدوا بالذی من بعدی ابوبکر و عمر۔
ترجمہ: آنحضرتﷺ نے فرمایا میرے بعد ابو بکر و عمر کی اقتداء کرنا۔
2: مروا ابا بکر فلیصل بالناس
ترجمہ: ابوبکر کو بلاؤ، آ کر میرے مصلیٰ پر نماز پڑھائے۔
3: لو كان بعدی نبی لکان عمر
ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
شیعیت:
امام مہدی (بارہویں امام) ابوبکرؓ و عمرؓ کو قبر سے نکال دیں گے۔
امام مہدی (بارہویں امام) سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی لاشوں کو درختوں سے لٹکا کر ان کے جسموں پر ہزاروں کوڑے برسائیں گے (لرزہ پیدا کر دینے والی ایک سنگین تحریر)
1: تحقیق المتین ترجمہ حق الیقین مطبوعہ امامیہ جنرل بک ایجنسی لاہور۔
2: حق الیقین مطبوعہ سازمان انتشارات جاویدان ایران، تالیف از ملا باقر مجلسی۔
شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی کی کتاب کی عبارت ان کی مذکورہ تالیف حق الیقین کے باب رجعت سے نقل کی جا رہی ہے جسے ملا باقر مجلسی نے مفصل بن عمر کے حوالے سے سیدنا جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کر کے نقل کیا ہے۔
فضل نے سیدنا جعفر صادقؒ سے عرض کیا کہ اے میرے آقا صاحب الامر یعنی سیدنا مہدی مکہ معظمہ کے بعد دوسرے کس مقام کا رخ کریں گے آپ نے فرمایا کہ ہمارے رسول خداﷺ کے شہر مدینہ جائیں گے وہاں ان سے ایک عجیب بات کا ظہور ہو گا جو مؤمنین کے لیے خوشی و شادمانی کا اور کافروں منافقوں کے لیے ذلت و خواری کا سبب بنے گی مفصل نے پوچھا وہ عجیب بات کیا ہوگی؟ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ جب وہ اپنے نانا رسول خداﷺ کی قبر کے پاس پہنچیں گے تو وہاں کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ لوگو! بتلاؤ کیا یہ قبر ہمارے نانا رسول خداﷺ کی ہے؟ لوگ کہیں گے کہ ہاں یہ انہی کی قبر ہے پھر امام پوچھیں گے یہ اور کون لوگ ہیں جو ہمارے نانا کے پاس دفن کر دیے گئے ہیں لوگ بتلائیں گے کہ یہ آپﷺ کے خاص مصاحب ابوبکر و عمر ہیں۔
حضرت صاحب الامر (امام مہدی) اپنی سوچی سمجھی پالیسی کے مطابق سب کچھ جاننے کے باوجود ان لوگوں سے کہیں گے کہ ابوبکر کون تھا اور عمر کون تھا اور کس خصوصیت کی وجہ سے ان دونوں کو ہمارے نانا رسول خداﷺ کے ساتھ دفن کیا گیا؟ لوگ کہیں گے یہ دونوں آپ کے خلیفہ اور آپ کی بیویوں عائشہؓ و حفصہؓ کے والد تھے۔
اس کے بعد جناب صاحب الامر فرمائیں گے کہ کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کو اس بارے میں شک ہو کہ یہی دونوں یہاں مدفون ہیں۔ لوگ کہیں گے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کو اس بارے میں شک ہو، سب یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ رسولِ خداﷺ کے پاس یہی دو بزرگ مدفون ہیں۔
پھر تین دن کے بعد صاحب الامر حکم دیں گے کہ دیوار توڑی جائے اور ان دونوں کو ان کی قبروں سے باہر نکالا جائے چنانچہ دونوں کو قبروں سے باہر نکالا جائے گا ان کا جسم تازہ ہوگا اور ان کا وہی کفن ہوگا جس میں یہ دفن کیے گئے تھے پھر آپ حکم دیں گے کہ ان کا کفن الگ کر دیا جائے (ان کی لاشوں کو برہنہ کر دیا جائے) اور ایک بالکل سوکھے درخت پر لٹکا دیا جائے۔
اس وقت مخلوق کے امتحان و آزمائش کے لیے یہ عجیب واقعہ ظہور میں آئے گا کہ وہ سوکھا درخت جس پر لاشیں لٹکائی جائیں گی، ایک دم سرسبز ہو جائے گا تازہ ہری پتیاں نکل آئیں گی اور شاخیں بڑھ جائیں گی، بلند ہو جائیں گی پس وہ لوگ جو ان دونوں سے محبت رکھتے اور مانتے تھے یعنی اہلِ سنت کہیں گے کہ واللہ یہ ان دونوں کی عنداللہ مقبولیت اور عظمت کی دلیل ہے اور ان کی محبت کی وجہ سے ہم نجات کے مستحق ہوں گے اور جب سوکھے درخت کے اس طرح سرسبز ہو جانے کی خبر مشہور ہوگی تو جن لوگوں کے دلوں میں ان دونوں کی ذرہ برابر محبت و عظمت ہوگی وہ اس کو دیکھنے کے شوق میں دور سے مدینہ آ جائیں گے تو جناب قائم الامر کی طرف سے ایک منادی ندا دے گا اور اعلان کرے گا جو لوگ ان دونوں ابوبکر و عمر سے محبت و عقیدت رکھتے ہوں وہ ایک طرف الگ کھڑے ہو جائیں۔
اس اعلان کے بعد لوگ دو حصوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ ان دونوں سے محبت کرنے والوں کا ہوگا اور دوسرا ان پر لعنت کرنے والوں کا اس کے بعد صاحب الامر ان لوگوں سے جو ان دونوں سے محبت کرنے والے ہوں گے مخاطب ہو کر فرمائیں گے کہ ان دونوں سے بیزاری کا اظہار کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو تم پر بھی ابھی خدا کا عذاب آئے گا۔
وہ لوگ جواب دیں گے کہ جب ہم ان کی عنداللہ مقبولیت کے بارے میں پوری طرح جانتے بھی نہیں تھے اس وقت بھی ہم نے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار نہیں کیا تو اب جب کہ ہم نے ان کے مقرب اور مقبول بارگاہِ خداوندی ہونے کی علامت آنکھوں سے دیکھ لی ہے تو ہم کیسے ان سے بیزاری کا رویہ اختیار کر سکتے ہیں بلکہ اب ہم تم سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں اور ان سب لوگوں سے جو تم پر ایمان لائے اور جنہوں نے تمہارے کہنے سے ان بزرگوں کو قبروں سے نکال کر ان کے ساتھ توہین تذلیل کا یہ معاملہ کیا ہے۔
ان لوگوں کا یہ جواب سن کر امام مہدی کالی آندھی کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں پر چلے اور ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دے پھر امام مہدی حکم دیں گے کہ ان دونوں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی لاشوں کو اتارا جائے پھر ان دونوں کو قدرتِ الٰہی سے زندہ کریں گے۔
و امر فرماید خلائق راهمه جمع شوند پس ہر ظلمے و کفرے از اول عالم تا آخر شد گناہش را بر ایشان لازم اورد و زدن سلمان فارسی و آتش افروختن بدر خانہ امیر المومنین را و فاطمہ و حسن و حسین را برائے سوختن ایشان و زہر دادن امام حسن و کشتن امام حسین و اطفال ایشان و اسیر کردن ذریت رسول و ریختن خون آل محمد ناہر مانے و ہر خونے کہ بناحق ونجتہ شد و ہر فربے کہ بحرام جماع شد و ہر سودے و حرامے کہ خوردہ شد ہر گناہے و ظلمے و جورے کہ واقع شد تا قیام قائم آل محمد همہ را بایشاں بشمارد کہ از شما شدہ و ایشان اعتراف کند زیرا کہ اگر در روز اول غصب حق خلیفہ بحق نمی کرداد نبھائے شد۔
پس امر فرما یدکہ از برائے مظالم ہر کہ حاضر باشد از ایشان قصاص نمایند پس ایشان را بفرما یدکہ از درخت بر کشند و آتشے را بفرماید کہ از زمین بیرون اید و ایشان را بسوزاند با درخت و بادے را فرماید کہ خاکستر ایشان را بدریا ہا باشد مفصل گفت اے سید من ایں عذاب ایشاں خواهد بود فرمود کہ ہیهات اے مفصل واللہ کہ سید اکبر محمد رسول اللہ و صدیق اکبر امیر المومنین و فاطمہ زہرا و حسن مجتبیٰ و حسین شهید کربلاء و جمیع ائمہ ہذی ہمگی رندہ خواهند شد و ہرکہ ایمان محض خالص داشتہ و ہرکہ کافر محض بودہ ہمگی زندہ خواہد نمبر راز برائے جمیع ائمہ و مؤمنان ایشاں را عذاب خواهند کرد حتی آنکہ در شبانہ روزے ہزار مرتبہ ایشاں رابکشند و زندہ کرد پس خدا بہرجا کہ خواہد ایشاں را برد و معذب کرداند۔
ترجمہ: اور حکم دیں گے کہ تمام مخلوق جمع ہو پھر یہ ہوگا کہ دنیا کے آغاز سے اس کے ختم تک جو بھی ظلم ہوا اور جو بھی کفر ہوا ان سب کا گناہ ان دونوں پر لازم کیا جائے گا اور انہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا سیدنا سلمان فارسیؓ کو پیٹنا اور سیدنا امیر المومنین علیؓ، سیدہ فاطمہ زہراؓ اور سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کو جلا دینے کے لیے ان کے گھر کے دروازہ میں آگ لگانا اور سیدنا حسنؓ کو زہر دینا اور سیدنا حسینؓ اور ان کے بچوں اور چچا زاد بھائیوں اور ان کے ساتھیوں مددگار کو کربلا میں قتل کرنا اور رسولِ خداﷺ کی اولاد کو قید کرنا اور ہر زمانہ میں آلِ محمد کا خون بہانا اور ان کے علاوہ جو بھی ناحق خون کیا گیا ہو اور کسی عورت کے ساتھ جہاں کہیں بھی زنا کیا گیا ہو اور جو سود یا جو بھی حرام کا مال کھایا گیا ہو اور جو بھی گناہ اور جو ظلم و ستم قائم آلِ محمد یعنی امام غائب کے ظہور تک دنیا میں کیا گیا ہو، اس سب کو ان دونوں کے سامنے گنایا جائے گا اور پوچھا جائے گا یہ سب کچھ تم سے اور تمہاری وجہ سے ہوا ہے"۔ وہ دونوں اقرار کریں گے کہ ہاں ہماری ہی وجہ سے ہوا کیونکہ اگر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد پہلے ہی دن خلیفہ برحق سیدنا علیؓ کا حق یہ دونوں مل کر غصب نہ کرتے تو ان گناہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوتا۔
اس کے بعد صاحب الامر حکم فرمائیں گے جو لوگ حاضر موجود ہیں وہ ان دونوں سے قصاص لیں اور ان کو سزا دی جائے پھر صاحب الامر حکم فرمائیں گے کہ ان دونوں کو درخت پر لٹکایا جائے اور آگ کو حکم دیں کہ زمین سے نکلے اور ان دونوں کو مع درخت کے جلا کر راکھ کر دے اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو دریاؤں پر چھڑک دے۔
مفصل نے عرض کی اے میرے آقا یہ ان لوگوں کو آخری عذاب ہو گا سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اے مفصل ہرگز نہیں خدا کی قسم! حضرت محمد رسول اللہﷺ اور صدیقِ اکبرؓ امیر المومنین سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہ زہراؓ اور سیدنا حسن مجتبیٰؓ اور سیدنا حسین شہید کربلاؓ اور تمام ائمہ معصومین سب زندہ ہوں گے اور جو خالص مومن ہوں گے سب زندہ کیے جائیں گے اور تمام ائمہ اور تمام مومنین کے حساب میں ان دونوں کو عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ دن رات میں ان کو ہزار مرتبہ مار ڈالا جائے گا اور زندہ کیا جائے گا اس کے بعد خدا جہاں چاہے گا ان کو لے جائے گا اور عذاب دیتا رہے گا۔
(بحوالہ ایرانی انقلاب: صفحہ219، از مفکر اسلام حضرت مولانا منظور احمد نعمانی، لکھنؤ انڈیا)