سیدنا علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں - دفاعِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس کے بعد حضرت خالدؓ نے ان کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب رسول اللہﷺ کو صورت حال کی خبر ملی تو آپﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: 

اَللّٰہُمَّ اِنِّيْ اَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ

(صحیح البخاری: 4339)۔

اے اللہ! خالد بن ولید نے جو کچھ کیا ہے میں تیرے آگے اس سے برأت کرتا ہوں۔ آپﷺ نے دو مرتبہ انھیں کلمات کو دہرایا اور پھر سیدنا علیؓ کو بہت مال و متاع دے کر بنوجذیمہ کے پاس روانہ کیا اور حکم دیا کہ جا کر معاملہ کی تحقیق کرو، آپ نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور تمام مقتولین کا خون بہا اور ہر قسم کے نقصانات کی تلافی کی، یہاں تک کہ کتوں کے پانی پینے کے برتن کی قیمت بھی دے دی۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو بنوجذیمہ سے پوچھا: کیا اب بھی کسی کا خون بہا، یا مالی نقصانات باقی رہ گیا جس کا معاوضہ نہ دیا گیا ہو؟ انھوں نے جواب دیا نہیں۔ آپ فرمایا: میرے پاس رسول اللہﷺ کا بھیجا ہوا جو مال باقی رہ گیا ہے وہ بھی میں تمھیں دیتا ہوں، تاکہ اس میں رسول اللہﷺ کی طرف سے پوری احتیاط ہو جائے جسے نہ وہ جانتے ہیں اور نہ تم جانتے ہو۔ چنانچہ حضرت علیؓ انھیں باقی مال دے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں واپس آ گئے، اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔

آپﷺ نے فرمایا: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ

(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 73 جلد 4 صفحہ 74، اس کی سند ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد موجود ہیں۔)

 تم نے ٹھیک کیا اور اچھا کیا، تو اس مقدس مہم کے ذریعہ سے حضرت علیؓ نے رسول اللہﷺ کے سر سے ہموم و غموم کے بار گراں کو اتار پھینکا۔ 

(خلافۃ علی بن أبی طالب: 46) ۔

آپﷺ نے بڑی حکمت عملی سے بنو جذیمہ کے لوگوں کی دل جوئی فرمائی اور ان کے رنج و غم کو مٹایا۔

(السیرۃ النبویۃ: أبو شہبۃ: جلد 2 صفحہ 465)۔

واضح رہے کہ بنوجذیمہ کے افراد کو قتل کرنے کا حکم دینا حضرت خالدؓ کی اجتہادی غلطی تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ آپﷺ نے انھیں درگزر فرمایا اور ان کو کوئی سزا نہ دی، نہ ہی معزول کیا۔ 

(السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیہ: صفحہ 579)۔

5: سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ حنین میں:

8 ھ میں غزوۂ حنین کے موقع پر بھی حضرت علیؓ کا مجاہدانہ کارنامہ دیکھا جاسکتا ہے، جس میں حضرت علیؓ نے بہادری اور فن حرب و ضرب میں تجربہ کاری کا مظاہرہ کیا۔ اس غزوہ میں حضرت علیؓ بھی دیگر انصار و مہاجرین کی طرح اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، قبیلہ ہوازن کا ایک شخص سرخ اونٹ پر ایک سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھا اور اپنی کارروائی کرتے چلاجا رہا تھا، یہ شخص جب کسی کو زد میں لیتا تو اسے نیزہ سے مار دیتا اور جب لوگ پیچھے چھوٹ جاتے تو جھنڈا بلند کر کے انھیں دکھاتا وہ پھر اس کے پیچھے لگ جاتے تھے۔ سیدنا علیؓ اپنی جنگی مہارت اور اس میدان میں طویل تجربہ کی بنا پر یہ محسوس کر لیا کہ اہل ہوازن کے جذبات جگانے اور انھیں مضبوط کرنے میں اس آدمی کا زبردست اثر ہے، اس لیے آپ اور ایک انصاری یک بیک اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے اونٹ سے گرانے پھر قتل کر دینے میں کامیاب ہو گئے اور پھر دیکھا گیا کہ چند ہی ساعتوں بعد دشمن شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا اور مسلمان فتح یاب ہوگئے۔ 

(مسند أبی یعلیٰ: جلد 3 صفحہ 388،اس کی سند حسن ہے، الصحیح المسند)


صفحہ 2 از 2