پچیسواں مدعی مہدی مرزا علی محمد باب - ردِ رافضیت | دفاع…

پچیسواں مدعی مہدی مرزا علی محمد باب

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 2

غرض کہ اس مجلس میں اس کی بے حد تذلیل ہوئی اور فصاحت و بلاغت کی تشریحات تک بیان نہ کر سکا جس پر حاکم نے اس کو درے لگانے کا حکم دیا باب دروں کی مار سے چیخ اٹھا اور توبہ کردم توبہ کردم (میں توبہ کرتا ہوں، میں توبہ کرتا ہوں) کی رٹ لگانے لگا حاکم نے اسے پھر چہریق کے قلعہ میں دوبارہ بھیج دیا باب نے اس نظر بندی کے زمانہ میں ملا حسین بشرویہ کو تبلیغ کے لیے خراسان بھیجا جو دو سو تئیس بابیوں کے ہمراہ بار فروش پہنچا اہل شہر سے مزاحم ہوا پھر قلعہ شیخ طبرسی پہنچا جہاں پر لوٹ مار کر کے دو سال کے خورد و نوش کا انتظام کر کے ایک قلعہ تعمیر کر کے اس میں پناہ گزین ہو گیا ارد گرد کے بابی سینکڑوں وہاں جمع ہونے لگے تو اس کی اطلاع پا کر طہران سے حاکم بازندران شہزادہ مہدی علی کے نام حکم پہنچا کہ وہ بابیوں کو تہہ تیغ کرے یہ لشکر عباس تلی خان کی کمک کا منتظر تھا کہ بابیوں نے اس پر شب خون مار کر اسلحہ خانہ پر قبضہ کر لیا اور قتل عام شروع کر دیا بابی مالِ غنیمت سے مالا مال ہو کر فتح و کامیابی کے پھریرے لہراتے ہوئے واپس قلعہ میں آئے اب شہزادہ عباس تلی خان سات ہزار کا لشکر لے کر آگے بڑھا اور قلعہ کا محاصرہ کر کے بیٹھ گیا آخر کار محصورین سخت بھوک و پیاس میں مبتلا ہوئے اور قلعہ سے پابند سلاسل کر کے نکالے گئے بابیوں کے سردار ملا محمد علی بار فروشی کو ذلیل و رسوا کر کے قتل کیا جن کی خبر سن کر باب رات دن روتا رہا اور بہت کم غذا کھائی۔

باب کا عبرت ناک انجام:

بابیوں کی اس ہنگامہ آرائی سے تنگ آ کر حکام سلطنت نے باب کا کام تمام کرنے کا فیصلہ کیا جسے سن کر باب نے اولاً خود کشی کی کوش کی تاکہ دشمن کے ہاتھوں ذلت کی موت سے بہتر موت مر جاؤں لیکن 28 شعبان کو اسے باندھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

 ہم نے اس باب میں تاریخ سے 25 ایسے مدعیان مہدی کا آئینہ ناظرین کے سامنے پیش کیا ہے جنہوں نے شیعہ ہی کے مختلف فرقوں سے ہونے کے باوجود خود کو اپنے ہی مذہب کے تصور امام مہدی کا محور بنانے کی کوشش کی ہر ایک مدعی نے خلفاء راشدینؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے براءت و بیزاری کے ساتھ ساتھ امام مہدی کے مزعومہ کارناموں کے مطابق کبھی کعبہ کی بے حرمتی کی کبھی مساجد کو منہدم کیا، کبھی اہلِ سنت کا قتل عام کیا کہیں حجر اسود کو نکالا، کبھی حج کو موقوف کیا، کبھی نمازوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ وہی غیر اسلامی سوچ اور اسلام دشمنی کی واضح علامات تھیں جو شیعہ کے تصور امام مہدی کی کوکھ سے پیدا ہوئیں تھیں ہماری گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ اسلام نے جس امام مہدی علیہ الرضوان کا تصور امت کے سامنے پیش کیا ہے وہ شیعہ افکار سے یکسر مختلف اور جدا ہے پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمد المہدی کی پیدائش مدینہ میں ہو گی اور ان کا ظہور خانہ کعبہ میں ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر آنحضرتﷺ کی شریعتِ محمدیہ کے فروغ کے لیے جہاد کریں گے ان کی آمد برحق ہے ان کے ظہور کی علامات کے بارے میں آنحضرتﷺ کی 37 احادیث رہنما کے طور پر ہمارے سامنے ہیں لیکن شیعہ نے جو تصور پیش کیا ہے وہ کسی لحاظ سے بھی اسلام سے ہم آہنگ نہیں اس کی تفصیل اگلے باب کے تقابلی جائزہ کے ہر صفحہ سے عیاں ہے۔


صفحہ 2 از 2