فرقہ بابیہ کا بانی مرزا علی محمد باب یکم محرم 1235ھ بمطابق 20 اکتوبر 1819ء کو شیراز میں پیدا ہوا اس کا باپ مرزا محمد رضا اس کے ابتدائی ایام طفولیت میں فوت ہو گیا تھا اس لیے پرورش اپنے ماموں مرزا علی کے پاس شیراز ہی میں پائی ابتدائی تعلیم شیخ محمد جن کا لقب عابد تھا سے حاصل کی اٹھارہ سال کی عمر میں اولاً اپنے ماموں کے ہمراہ تیل بیچنے کا کاروبار کیا بعد ازاں بوشہر میں اپنا کاروبار شروع کر کے اس شہر میں شادی کی اس بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا جو بچپن ہی میں فوت ہو گیا پانچ سال بعد نجف کا سفر کیا ایک سال وہاں رہا پھر تین ماہ کربلا میں گزارے یہاں سے ارض وفا کا رخ کیا۔
امام مہدی کا واسطہ بننے کا دعویٰ:
یہاں مرزا علی محمد نے مہدویت کے دعویٰ کا پختہ عزم کر لیا لیکن عوام کے فوری طور پر قبول نہ کرنے کے خیال سے اولاً صاحب الزمان مہدی علیہ السلام کا واسطہ اور ذریعہ بننے کا پروگرام بنا کر باضابطہ 25 سال کی عمر میں 1260ھ میں اپنے کو باب (دروازہ) کے لقب سے متعارف کرانے کا آغاز کیا۔
امام زمان کا دروازہ متعارف کرایا گیا:
اور عوام الناس کو یہ باور کرانے میں کوشاں ہوا کہ وہ صاحب العصر امام زمان کے (جو شیعہ عقیدہ کے مطابق سر من رای کے غار میں غائب ہیں) فیوض و برکات کا دروازہ و ذریعہ ہے۔
امام مہدی کا دعویٰ:
چند روز بعد علی محمد نے باضابطہ مہدویت کا دعویٰ کر دیا چنانچہ شیعہ فرقہ کے شیعوں اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اس کی مہدویت کے دعویٰ کو قبول کر لیا باب نے اپنے اپنے خاص خاص لوگوں کو سلاطین کی طرف دعوت دے کر روانہ کیا اس کے بعد مکہ معظمہ گیا جب واپس آیا تو بوشہر، شیراز وغیرہ شہروں میں اس کے خلاف سخت نفرت انگیز جوش و جذبہ کا اظہار کیا گیا حاکم شہر نے اس کے کئی اہم مریدوں کو پکڑ کر ان کے سر و داڑھیاں منڈوا کر خوب ذلیل کیا انہی ایام میں حاکم نے سپاہیوں کے ذریعہ اس کی خوب مرمت کرائی لیکن باب کی قسمت میں ابھی فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکانے اور الحاد و زندقہ کو فروغ دینے کی مہلت موجود تھی۔
شیعہ مجتہد یحییٰ درابی کی معیت:
محمد شاہ تاجدار ایران کے بھیجے ہوئے مناظر شیعہ مجتہد سید یحییٰ درابی جیسے لوگ بھی اس سے مل گئے اور شیعہ مجتہد ملا محمد علی بھی اس کی تحریروں سے متاثر ہو کر اس کا ہمنوا ہو گیا جس نے اہلِ زنجان کو بابی مذہب کی طرف مائل کیا اور طہران میں علماء کی مجلس میں کج بحثی اور دو معنیٰ گفتگو کے ذریعہ اپنا اثر ظاہر کرنے میں کامیاب ہو گیا اب باب کے پیروکاروں کی جمعیت ہزاروں سے لاکھوں تک جا پہنچی اور وہ بغاوت کے لیے پر تولنے لگا شیراز کے حاکم اور عوام کی بڑھتی ہوئی مخالفت سے مجبور ہو کر بابِ اصفہان کی طرف کوچ کر گیا جہاں حاکم اصفہان معتمد الدولہ منوچہر خان اس کا گرویدہ ہو گیا اور در پردہ اس کا مذہب قبول کر لیا لیکن عوام میں سخت شورش برپا ہوئی تو حاکم اصفہان نے علماء کو لاجواب کرنے اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے شیعہ علماء مرزا سید آغا محمد مہدی اور مرزا محمد حسن سے اس کا مناظرہ کرایا جس میں باب نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا نہ میں کسی کی تقلید کرتا ہوں، نہ مجتہدین کی طرح قیاس سے کام لیتا ہوں اور میرے نزدیک قیاس فقہی حرام و ناجائز ہے میں مقام قلب پر پہنچ چکا ہوں، مجھ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے جو چاہو سو مجھ سے پوچھو مگر مرزا محمد حسن کے اس سوال کا جواب لکھ کر دینے میں کامیاب نہ ہو سکا کہ سیدنا امیر المومنین علیؓ ایک ہی رات میں بیک وقت چالیس آدمیوں کے مہمان کیسے بنے تھے؟ اس واقعہ کے چار ماہ بعد معتمد الدولہ کا انتقال ہو گیا اس کا بھتیجا مرزا گوگین خان حاکم اصفہان مقرر ہوا تو اسے پتہ چلا کہ عوام کے جوش و غصہ کو دیکھ کر معتمد الدولہ نے اگرچہ بظاہر باب کو طہران بھیج دیا تھا لیکن خفیہ طور پر اسے واپس بلوا کر اپنے پاس نہایت عیش و آرام کی فراوانی دے کر ٹھہرایا ہوا تھا مرزا گوگین نے وزیر اعظم طہران کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جس پر وزیر اعظم نے باب کو فوری طہران بھیجنے کا آرڈر دیا مرزا گوگین نے فوراً روانگی کا بندوبست کر کے باب کو طہران کی طرف بھجوایا لیکن کاشان پہنچتے ہی وزیر اعظم کا دوسرا حکم ملا کہ باب کو تبریز لے جایا جائے اور وہاں سے ماہکو کے پہاڑ پر واقع قلعہ میں بند کیا جائے باب نے تبریز کے حاکم کی منت سماجت بھی کی کہ اسے تبریز میں ٹھہرنے دے مگر لاچار و مجبور ہو کر چل پڑا ماہکو کے قلعہ میں بند کر دیا گیا۔
پورا ایران مرزا علی محمد باب کی مہدویت پر ایمان لے آیا:
جب ماہکو میں بھی اس کے پیروکار پہنچ گئے تو تین سال بعد اسے وہاں سے شہر ارومیہ کے قلعہ چہریق کے حاکم یحییٰ خان کے سپرد کر دیا لیکن اس عرصہ میں پورا ایران باب کے نام چرچے سے گونجنے لگا اور اس کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا جسے دیکھ کر ایک مرتبہ پھر حکام نے باب کو چہریق سے تین ماہ بعد ہی تبریز واپس بلوا لیا اور قید خانہ میں رکھنے کی بجائے کاظم خان داروغہ فرش کے گھر ٹھہرایا۔
میں مہدی منتظر ہوں:
دوسرے روز مجلس مناظرہ میں باب نے نظام العلماء کے خطاب کے حامل تبریز کے مجتہد اعظم ملا محمود کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا: میں وہی ہوں جس کا ہزار سال سے انتظار کیا جا رہا ہے میں ہی صاحب الامر مہدی علیہ السلام ہوں، صاحب الزمان اور قائم آل محمد ہوں۔
مناظرہ میں شکست:
میری مہدویت کی دلیل قرآن کی بہت سی آیات ہیں لیکن احادیث میں مہدی کے والدین کے اسماء اور دیگر علامات کی مطابقت نہ ہونے کا جواب اس سے نہ بن پڑا لیکن کرامت کے طور پر فی البدایہ ایک ہزار شعر پڑھنے کا دعویٰ کیا مگر نظام العلماء نے کہا کہ کرامت کے طور پر میرے بڑھاپے کو جوانی میں بدل دیں، جس کا جواب نہ دے سکا۔
حاکم ایران کی طرف سے درے لگانے کا حکم:
غرض کہ اس مجلس میں اس کی بے حد تذلیل ہوئی اور فصاحت و بلاغت کی تشریحات تک بیان نہ کر سکا جس پر حاکم نے اس کو درے لگانے کا حکم دیا باب دروں کی مار سے چیخ اٹھا اور توبہ کردم توبہ کردم (میں توبہ کرتا ہوں، میں توبہ کرتا ہوں) کی رٹ لگانے لگا حاکم نے اسے پھر چہریق کے قلعہ میں دوبارہ بھیج دیا باب نے اس نظر بندی کے زمانہ میں ملا حسین بشرویہ کو تبلیغ کے لیے خراسان بھیجا جو دو سو تئیس بابیوں کے ہمراہ بار فروش پہنچا اہل شہر سے مزاحم ہوا پھر قلعہ شیخ طبرسی پہنچا جہاں پر لوٹ مار کر کے دو سال کے خورد و نوش کا انتظام کر کے ایک قلعہ تعمیر کر کے اس میں پناہ گزین ہو گیا ارد گرد کے بابی سینکڑوں وہاں جمع ہونے لگے تو اس کی اطلاع پا کر طہران سے حاکم بازندران شہزادہ مہدی علی کے نام حکم پہنچا کہ وہ بابیوں کو تہہ تیغ کرے یہ لشکر عباس تلی خان کی کمک کا منتظر تھا کہ بابیوں نے اس پر شب خون مار کر اسلحہ خانہ پر قبضہ کر لیا اور قتل عام شروع کر دیا بابی مالِ غنیمت سے مالا مال ہو کر فتح و کامیابی کے پھریرے لہراتے ہوئے واپس قلعہ میں آئے اب شہزادہ عباس تلی خان سات ہزار کا لشکر لے کر آگے بڑھا اور قلعہ کا محاصرہ کر کے بیٹھ گیا آخر کار محصورین سخت بھوک و پیاس میں مبتلا ہوئے اور قلعہ سے پابند سلاسل کر کے نکالے گئے بابیوں کے سردار ملا محمد علی بار فروشی کو ذلیل و رسوا کر کے قتل کیا جن کی خبر سن کر باب رات دن روتا رہا اور بہت کم غذا کھائی۔
باب کا عبرت ناک انجام:
بابیوں کی اس ہنگامہ آرائی سے تنگ آ کر حکام سلطنت نے باب کا کام تمام کرنے کا فیصلہ کیا جسے سن کر باب نے اولاً خود کشی کی کوش کی تاکہ دشمن کے ہاتھوں ذلت کی موت سے بہتر موت مر جاؤں لیکن 28 شعبان کو اسے باندھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
ہم نے اس باب میں تاریخ سے 25 ایسے مدعیان مہدی کا آئینہ ناظرین کے سامنے پیش کیا ہے جنہوں نے شیعہ ہی کے مختلف فرقوں سے ہونے کے باوجود خود کو اپنے ہی مذہب کے تصور امام مہدی کا محور بنانے کی کوشش کی ہر ایک مدعی نے خلفاء راشدینؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے براءت و بیزاری کے ساتھ ساتھ امام مہدی کے مزعومہ کارناموں کے مطابق کبھی کعبہ کی بے حرمتی کی کبھی مساجد کو منہدم کیا، کبھی اہلِ سنت کا قتل عام کیا کہیں حجر اسود کو نکالا، کبھی حج کو موقوف کیا، کبھی نمازوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ وہی غیر اسلامی سوچ اور اسلام دشمنی کی واضح علامات تھیں جو شیعہ کے تصور امام مہدی کی کوکھ سے پیدا ہوئیں تھیں ہماری گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ اسلام نے جس امام مہدی علیہ الرضوان کا تصور امت کے سامنے پیش کیا ہے وہ شیعہ افکار سے یکسر مختلف اور جدا ہے پوری امتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمد المہدی کی پیدائش مدینہ میں ہو گی اور ان کا ظہور خانہ کعبہ میں ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر آنحضرتﷺ کی شریعتِ محمدیہ کے فروغ کے لیے جہاد کریں گے ان کی آمد برحق ہے ان کے ظہور کی علامات کے بارے میں آنحضرتﷺ کی 37 احادیث رہنما کے طور پر ہمارے سامنے ہیں لیکن شیعہ نے جو تصور پیش کیا ہے وہ کسی لحاظ سے بھی اسلام سے ہم آہنگ نہیں اس کی تفصیل اگلے باب کے تقابلی جائزہ کے ہر صفحہ سے عیاں ہے۔