مہدی کردی منتظر کا دعویٰ:
کردستان کے علاقہ کوہ عمادیہ میں عبد اللہ نامی شخص 1075ھ میں ظاہر ہوا جس کا دعویٰ تھا کہ میں سادات حسینی میں سے ہوں اس نے اپنے بارہ سالہ لڑکے کا نام محم" اور لقب مہدی منتظر رکھا اور خود اس کے لیے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا قبائل کے بے شمار لوگ نو عمر مہدی کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار ہو گئے چونکہ انہی ایام میں سمرنا میں پیدا ہونے والا یہودی سباتائی زیبی مسیح موعود کا دعویدار ہو کر شہرت حاصل کر چکا تھا، اپنا ہمنوا اور اسرائیلیوں کو مسلمانوں اور عیسائیوں سے نجات دلانے کی امید دلا کر ہزاروں کی تعداد میں اپنا ہمنوا بنا چکا تھا اور ترکی کی مملکت میں دھم مچائے ہوئے تھا تو اس نو عمر کردی مہدی کی خبر پاتے ہی بہت سے کمزور ایمان لوگ یہ سمجھنے لگے شاید علامات قیامت، مسیح موعود کی آمد اور مہدی منتظر کے ظہور کی شکل میں پوری ہونے لگی ہیں تو تیزی سے مہدی کردی کی بیعت کو سعادت سمجھ کر آگے بڑھنے لگے۔
جب افرادی قوت میں خوب اضافہ ہو گیا تو ملک گیری کی ہوس نے انہیں موصل سمیت کئی شہروں پر قابض ہونے کی راہ دکھائی چند شہروں پر قبضہ کی خبر سنتے ہی والی مصل سلطان محمد چہارم نے اس پر چڑھائی کی اور باپ بیٹا کو گرفتار کر کے اس کے بے شمار پیروکاروں کو خاک و خون میں تڑپایا پابند سلاسل ہو کر جب باپ بیٹا سلطان کے سامنے پیش ہوئے تو مہدویت کا نشہ ہرن ہو چکا تھا چنانچہ مہدی کے دعویٰ سے دستبرداری کرنے اور اپنی خوش گفتاری کے باعث سلطان کے جناب سے بچ گئے۔
(بحوالہ ائمہ تلبیس: جلد 2 صفحہ160)