سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں -…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

آخر الذکر توجیہ سب سے عمدہ ہے اور یہی مقام صحابہ کے موافق ہے، یقیناً ان کی نگاہوں میں احرام کی بڑی عظمت تھی اور عمرہ ادا کر کے ہی واپس جانا چاہتے تھے، لیکن جب آپﷺ نے انھیں حلال ہونے کا حکم دیا اور خود حلال نہ ہوئے، تو انھوں سوچا کہ شاید ہم پر شفقت کھا کر آپﷺ یہ حکم دے رہے ہیں، جیسا کہ ان کے ساتھ عموماً آپ کا ایسا ہی برتاؤ ہوتا تھا، لہٰذا جس کام کے لیے انھیں رخصت دی گئی اس میں نبی کریمﷺ کی پیروی کو ترجیح تھی، لیکن جب یہ دیکھ لیا کہ آپ حلال ہوگئے ہیں تو انھیں یقین آ گیا کہ ہمارے حق میں بھی یہی افضل ہے اور پھر تعمیل حکم میں جلدی کی، بالکل اسی طرح کا واقعہ حجۃ الوداع میں بھی پیش آیا۔ چنانچہ جب لوگ مکہ پہنچے اور طواف و سعی سے فارغ ہوگئے تو رسول اللہﷺ نے انھیں حکم فرمایا کہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں اور اسے عمرہ میں تبدیل کر لیں، حج کی تعظیم و احترام میں صحابہ کرامؓ پر یہ بات بہت گراں گزری اور کہنے لگے کہ کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرات ٹپک رہے ہوں۔ رسول اللہﷺ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا: 

اَیُّہَا النَّاسُ اَحَلُّوْا فَلَوْ لَا الْہَدْیُ الَّذِیْ مَعِیَ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْتُمْ۔

’’لوگو!حلال ہوجاؤ اگر میں ہدی اپنے ساتھ نہ لایا ہوتا تو تمھاری طرح میں بھی حلال ہوجاتا۔‘‘

راوی حدیث جابرؓ فرماتے ہیں: پھر ہم نے احرام کھول دینے اور سمع و اطاعت کا مظاہرہ کیا۔

(صحیح البخاری: الاعتصام: 7367)

یہ سب اس لیے ہوا کہ صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے مکمل اسوہ کو اختیار کرنے اور خیر کے انتہائی حریص تھے۔

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 268) ۔

صلح حدیبیہ سے متعلق سیدنا عمر فاروقؓ کے بار بار اعتراض پر نبی کریمﷺ کا خاموش موقف بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، وہ یہ کہ حکام، امراۓ، علماء اور دیگر مبلغین اسلام جن کے ہاتھوں میں اسلامی قیادت ہے انھیں کشادہ دل ہونا چاہیے، کسی کی رائے کو بغور سننا اور سوچنا چاہیے، مفاد عامہ کے حق میں رائے دہی کی اہلیت رکھنے والے ہر فرد کو اظہارِ رائے کا موقع دینا چاہیے نہ یہ کہ ان کے لیے قید خانوں کے دروازے کھول دیے جائیں اور ان کے منہ پر تالے لگا دیے جائیں۔

صلح حدیبیہ کے اہم موقع پر آپﷺ نے یہ واضح کر دیا کہ اسلامی معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی کو ضمانت دی جائے اور مسلم معاشرہ میں ہر فرد کو اظہارِ رائے کی آزادی ہے، اگرچہ یہ رائے حاکم وقت یا خلیفہ پر نکتہ چینی ہی کیوں نہ ہو، مسلم فردکو حق ہے کہ وہ اپنا نظریہ پیش کرے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سب کچھ امن وامان کے ماحول میں ہو، دہشت گردی اور بغاوت کا سہارا نہ لیا جائے کہ جو آزادی فکر و رائے کا گلا گھونٹتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ حضرت عمرؓ کے ساتھ یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں تو حاکم وقت سے کسی رائے میں مخالفت رکھنا بدرجۂ اولی کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور کوئی ایسا جرم نہیں ہے جو موجب سزا ہو، اور مخالفت کرنے والوں کو جیل خانوں کی تہ میں دھکیل دیا جائے۔ 

(غزوۃ الحدیبیۃ: أبوفارس: صفحہ 134، 135)۔

اسی طرح غزوۂ حدیبیہ میں نبی اکرمﷺ کا موقف ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ آپﷺ ناخوشگوار حالات میں کتنے مشفقانہ انداز میں اپنے صحابہ کرامؓ کی تربیت کرتے تھے۔ اس موقع پر دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ حضرت علیؓ نے بھی شرف و عظمت کا یہ تاج الہٰی پہنا:

لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ۞(سورۃ الفتح آیت 18)

ترجمہ:)  یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَنْ یَدْخُلَ أَحَدُ النَّارَ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4840، صحیح مسلم: حدیث نمبر 1856)۔

’’جس نے اس درخت کے نیچے بیعت کی وہ ہرگز ہرگز جہنم میں نہ جائے گا۔‘‘

سیدنا علیؓ اور آپ کے دیگر رفقاء مثلاً ابوبکر و عمر وغیرہ رضی اللہ عنہم اس سے قبل بدر میں امتیازی نشان اور شرف عظیم حاصل کر چکے تھے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ اللّٰہَ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔

(صحیح البخاری: 3983، صحیح مسلم: 2494)۔

’’تمھیں کیا معلوم اللہ نے اہل بدر پر نظر کرم کی اور فرمایا: جو چاہو کرو میں نے تمھیں بخش دیا ہے۔‘‘


صفحہ 3 از 3