سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں -…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان میں

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

(ترجمہ: آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں۔) پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کو جس شورائیت اور اظہار رائے کا عادی بنایا تھا، یہ تکرار بھی اسی کا ایک حصہ تھی، آپﷺ صحابہؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے، ان کی رائے قبول بھی کرتے تھے۔ غزوۂ بدر کی تمہید میں آپﷺ نے قافلہ ابو سفیان کو چھیڑنے کے لیے صحابہؓ سے مشورہ کیا اور اس پر عمل کیا، غزوۂ اُحد کے لیے مشورہ کیا کہ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یا باہر نکل کر، اکثریت نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے باہر لڑی جائے اس لیے آپﷺ نے باہر جا کر ان سے لڑائی کی، غزوۂ خندق کے موقع پر صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ اگر اس ایک سال کے لیے مدینہ کی ایک تہائی کھجوروں پر مشرکین دشمنوں سے مصالحت کر لی جائے تو کیسا ہے، سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما نے اس رائے کو پسند نہ کیا اور آپﷺ نے انھیں کی بات مان لی۔ غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ اگر اچانک مشرکین کی آل اولاد پر حملہ کر دیا جائے تو کیسا ہوگا، ابوبکر صدیقؓ نے کہا :ہم جنگ کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ عمرہ کرنے آئے ہیں بہرحال اس طرح کے بےشمار واقعات سیر ت کی کتب میں محفوظ ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 420)۔

خلاصہ یہ کہ حضرت عمر فاروقؓ اپنی رائے میں اس بات کو ترجیح دینا چاہتے تھے کہ اللہ کے رسولﷺ قریش سے معرکہ آرائی کی میری بات مان لیں، اس لیے بار بار اس سلسلہ میں کبھی اللہ کے رسولﷺ اور کبھی ابوبکر صدیقؓ سے حجت کرتے رہے لیکن جب دیکھا کہ دونوں ہی صلح کی قرار داد پر متفق ہیں تو حضرت عمرؓ نے اصرار کرنا ہی چھوڑ دیا اور اپنی رائے واپس لے لی، اللہ کے رسولﷺ نے بھی حضرت عمر فاروقؓ سے در گزر کیا، کیونکہ آپﷺ کو حضرت عمرؓ کی صداقت، اور نیک نیتی پر یقین تھا۔ 

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 266، روافض کی تردید میں یہ افضل ترین کتاب ہے۔)

رہا یہ اعتراض کہ اعلان رسول کے باوجود صحابہ کرامؓ سرمنڈوانے اور ہدی ذبح کرنے سے اس وقت تک رکے رہے جب تک کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہدی کو ذبح نہ کیا اور سر نہیں منڈوا لیا، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اس طرزِ عمل میں فرمان رسولﷺ کی مخالفت نہ تھی، بلکہ اس کی چند توجیہات ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

•     صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ توقف ممکن ہے اس وجہ سے رہا ہو کہ انھوں نے فرمان نبویﷺ کو ندب پر محمول کیا ہو کہ جن کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہوگا اور چھوڑنے والا گناہ گار نہ ہوگا۔

•  یا اس امید میں رہے ہوں کہ ممکن ہے بظاہر اس جانبدارانہ صلح کی تردید کے لیے وحی الہٰی کا نزول ہو جائے۔

• یا ممکن ہے آپﷺ خود مکہ نہ جائیں اور صرف

صحابہؓ کو اس سال مناسک کی تکمیل کے لیے مکہ جانے کی اجازت دے دیں۔ ان تمام خیالات اور احتمالات کا پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں، کیونکہ نزولِ شریعت کا زمانہ تھا، اور احکام منسوخ ہوا کرتے تھے۔

•یا اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس مقام پر اس وقت کی پیچیدہ صورتِ حال نے انھیں فوری توجہ سے غافل کر دیا ہو، وہ افکار و ہموم میں ڈوبے رہے ہوں، کیونکہ نفسیاتی طور سے انھیں اہانت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، حالانکہ انھیں اپنے اوپر یقین اور اعتماد تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور طاقت وغلبہ کے بل بوتے عمرہ مکمل کرلیں گے۔

• یا تعمیل حکم میں اس لیے تاخیر کی کہ آپﷺ کا یہ حکم مطلق ہے جس کی فی الفور بجاآوری ضروری نہیں ہے۔

•یا ان تمام احتمالات کو ہر ایک نے اپنے اپنے اعتبار سے سمجھا۔

(فتح الباری: جلد 5 صفحہ 347)

بعض روایات میں ہے کہ جب رسول اکرمﷺ نے دیکھا کہ صحابہؓ میرے حکم کی فوری تعمیل نہیں کر رہے ہیں تو آپﷺ سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گئے اور ان سے صورت حال کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی انھیں کچھ مت کہئے، جانبدارانہ صلح اور بغیر کسی فتح کے لوٹنا ان پر بھی آپ ہی کی طرح گراں گزرا ہے۔

(فتح الباری: جلد 5 صفحہ 345) 

آپﷺ کو مشورہ دیا جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپﷺ جائیں اور کسی سے بغیر کچھ گفتگو کیے ہوئے اپنے اونٹ کو نحر کریں، اور سر مونڈنے والے کو بلا کر سرمنڈوا لیں، چنانچہ آپﷺ نے یہ مشورہ پسند کیا اور باہر جا کر کسی سے کوئی گفتگو کیے بغیر اونٹ کو نحر کیا اور سرمونڈنے والے کو بلا کر سرمنڈوایا، جب صحابہؓ نے آپﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تو سب نے ہدی کے جانور کو ذبح کیے۔‘‘ (فتح الباری: جلد 5 صفحہ 345) ۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہؓ نے صحابہ کے بارے میں یہ سوچا کہ شاید وہ لوگ فرمان نبوی کو اپنے حق میں رخصت پر محمول کر رہے ہیں اور خود اللہ کے رسول عزیمت پر عمل کرتے ہوئے احرام کی حالت میں باقی رہنا چاہتے ہیں، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت آپ نے رسول اکرمﷺ کو خود پہلے حلال ہونے کا مشورہ دیا، تاکہ آپﷺ کے بارے میں کوئی دوسرا احتمال باقی نہ رہے۔ اس کی نظیر اس واقعہ میں ہے جو فتح مکہ کے وقت پیش آیا۔ رمضان کا مہینا تھا، حالت سفر میں آپﷺ صحابہ کو روزہ توڑ دینے کا حکم فرمایا، لیکن وہ روزہ کی حالت میں باقی رہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے پیالہ اٹھایا اور نوش فرمایا۔ جب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو پیتے ہوئے دیکھا تو سبھی نے پانی پی کر روزہ توڑ دیا۔

(دیکھئے: صحیح البخاری: کتاب الشروط: 2732) ۔

صفحہ 2 از 3