اکیسواں مدعی مہدی احمد بن عبداللہ سلجاسی - ردِ رافضیت |…

اکیسواں مدعی مہدی احمد بن عبداللہ سلجاسی

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

احمد سلجاسی 967ھ میں مغربی ممالک کے علاقہ سلجاس میں پیدا ہوا زمانہ شباب میں فارس کا سفر کیا اور بڑے بڑے علماء سے اکتسابِ علوم کر کے مشرق کا سفر کیا حج سے فارغ ہو کر مصر گیا اور وہاں کے نامور علماء و مفکرین سے علمی پیاس کو بجھایا اس کے بعد حضرت مہدی منتظر کے ظہور سے متعلق روایات اور پیش گوئیوں پر مبنی احادیث کو جمع کیا اور تفصیل سے ضعیف روایات تک کو نقل کر کے حضرت مہدی کی علامات و صفات پر مشتمل کتاب مرتب کی۔

دعوئی مہدویت:

کچھ ہی عرصہ بعد 1031ھ میں اپنے مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کر دیا ہزاروں لوگ پیروکاروں کی صف میں آکھڑے ہوئے پھر تمام شہروں اور علاقوں اور صوبوں کے عمائدین اور سربر آوردہ شخصیات کو خطوط لکھ کر دعوت دی کہ مہدی منتظر کا ظہور ہو چکا ہے لہٰذا میری مخالفت کر کے گمراہی کی وادیوں میں ذلیل و رسوا ہونے کی بجائے میری اتباع کر کے (معاذ اللہ) محمد مصطفیٰﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل بننے کا سنہری موقع حاصل کرو۔

مہدی کے لشکر کی کامیابی:

جب اس کی تعداد کافی بڑھ گئی اور مخالفین کو ایذاء رسانی کا سلسلہ بھی چل نکلا تو مراکش کے سلطان زیدان کے عامل جارج میر نے چار ہزار کے لشکر سے اس فتنہ کو مٹانے کے لیے قدم آگے بڑھایا احمد سلجاسی چار سو پیروکاروں کو لے کر مقابلہ پر آیا اور اس بے جگری سے لڑا کہ دشمن پر فتح پائی اور بلا مزاحمت سلجاس پر قابض ہو گیا اور عادلانہ طرزِ حکومت قائم کر کے رعایا کی ہمدردیاں مزید حاصل کر لیں۔

مراکش پر مہدی کی حکومت:

سلطان زیدان نے اپنے بھائی عبد اللہ بن منصور المعروف زبدہ کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا جو تین ہزار لاشیں چھوڑ کر میدان سے بھاگ اٹھا اس فتح نے احمد سلجاسی کی شہرت و عظمت کو چار چاند لگا دیے اس شکست کے بعد سلطان زیدان کی شکست زدہ فوج کا سپہ سالار یونس ایک بڑی فوج کے ہمراہ احمد سلجاسی سے آ ملا اور اسے زیدان پر چڑھائی کے لیے اکسایا سلطان زیدان لشکر جرار کے ساتھ مقابلہ پر آیا مگر شکست کھا کر جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور احمد سلجاسی مراکش پر قابض و متصرف بننے میں کامیاب ہو گیا۔

جھوٹے مہدی کا عبرتناک انجام:

کچھ عرصہ بعد سلطان زیدان کوہ ورن میں ہزاروں مریدوں کے ساتھ اپنے والد کی خانقاہ میں مقیم مشہور عالم فقیہ ابو زکریا یحییٰ بن عبد اللہ کے پاس آیا اور انہیں اپنی داستان شکست سنا کر احمد سلجاس سے مقابلہ پر تیار ہو گیا فقیہ ابو زکریا نے 8 رمضان 1022ھ کو ہزاروں مریدین اور سلطان زیدان کے ہمراہ مراکش کی طرف کوچ کیا اور کوہ مطل پر احمد سلجاس سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے میدان کار زار گرم کیا جس میں نام نہاد مہدی موعود احمد سلجاس اور اس کے پیروکاروں کو شکست فاش ہوئی اور ان کی زندگی کے چراغ بھی بجھ گئے ان کے سر کاٹ کر بارہ سال تک مراکش کے دروازوں پر لٹکائے گئے۔

امام کے غائب ہونے کا عقیدہ:

لیکن شقاوت قلبی میں مبتلا سلجاس کے پیروکار کہتے ہیں کہ ہمارے مہدی صاحب قتل نہیں ہوئے بلکہ کچھ عرصہ کے لیے نظروں سے غائب ہوئے ہیں۔  

(کتاب الاستقصاء الاخبار دول المغرب الاقصىٰ: جلد3 صفحہ 107)