یہ ایک مغلوب الحال صوفی تھے ایک روز عالمِ وجد و حال میں دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ انت مہدی یعنی تو مہدی ہے جس پر وہ سمجھے کہ میں واقعی مہدی ہوں اور دعویٰ مہدویت کر دیا ہزاروں لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے بیت اللہ کے حج کا ارادہ کر کے سوئے حرمین گامزن ہوئے راستہ میں کشف کے ذریعہ سمجھ گئے کہ میں وہ مہدی نہیں جس کی بشارت دی گئی ہے بلکہ مہدی اس معنیٰ میں ہوں کہ خلقِ خدا کو عبادتِ الٰہی کی طرف راہنمائی کرتا ہوں چنانچہ سابقہ عقیدہ سے تائب ہو کر اسی سفر میں ہی دارِ آخرت کی طرف سدھار گئے مگر پیچھے رہ جانے والے اکثر لوگ ان کے سابقہ دعویٰ پر ہی ڈٹے رہے جنہیں جماعت نور بخشیہ کہا جاتا ہے (ان کی آبادی آج بھی گلگت، ہنزہ وغیرہ کے علاقہ میں پائی جاتی ہے)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا:
مرزا حیدر نے تاریخِ رشیدی میں لکھا ہے کہ اہلِ شہر اکثر حنفی المسلک تھے لیکن ایک شخص شمس الدین جو خود کو سید محمد نور بخش کی طرف منسوب کرتا تھا لوگوں کو نور بخشیہ کی طرف دعوت دینے لگا یہ لوگ شیعہ رافضیوں کی طرح خلفائے ثلاثہؓ اور اُم المؤمنین سیدہ عائشہؓ کو گالیاں دیتے ہیں اور سید محمد نور بخش کو صاحبِ الزمان اور مہدی موعود یقین کرتے ہیں شمس الدین نے نور بخشی مذہب میں بہت سے تصرفات کر کے مذہبی کتاب حوطہ یا احوطہ رائج کی اس گروہ کو حلال و حرام کی تمیز نہیں ہے ان کا عقیدہ ہے کہ آفتاب سے نور کا وجود وابستہ ہے اور آفتاب ہمارے عقیدہ کی صفائی سے قائم ہے اگر ہم اپنی صفائی کو مکدر کر دیں گے تو آفتاب بھی مکدر ہو جائے گا لہٰذا جب دن ہو تو ہمیں صلاح و خوبی کے سوا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے البتہ رات کی تاریکی کی سیاہ چادر جب تن جاتی ہے تو آفتاب ہمیں نہیں دیکھتا اور نہ ہمارے احوال پر مطلع ہوتا ہے لہٰذا اب جو کچھ بھی کر لیں، اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اس سے اس گروہ کی گمراہی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
(تاریخِ فرشتہ: جلد2 صفحہ336، ہدیہ مہدویہ: صفحہ 202)