شیعہ کا جنازہ پڑھنا اور پڑھانا
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا شیعہ میت کا سنی امام جنازہ پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا سنی میت کا شیعہ امام جنازہ پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا کوئی بھی فتویٰ لگتا ہے؟ اگر سنی امام سنی میت کا جنازہ پڑھا رہا ہو تو شیعہ ساتھ شریک ہو سکتے ہیں؟ اگر شیعہ امام شیعہ میت کا جنازہ پڑھا رہا ہو تو کیا سنی ساتھ شریک ہو سکتے ہیں؟
جواب:چند صدیوں تک تقیہ کی وجہ سے شیعہ طبقہ کے عقائد دنیا کے آنکھوں سے عموماً اوجہل تھے، مگر اب تو ان کی تصنیفات اور مذہبی کتابوں کے حوالوں سے ان کے مسلمہ عقائد واضح ہو چکے ہیں جو اکثر کفریہ معتقدات ہیں اگر کوئی شیعہ تفضیلی وغیرہ ہو جو عقائدِ کفریہ نہ رکھتا ہو ایسوں سے تو مسلمانوں جیسا سلوک یعنی تدفین و تکفین و غسل اور نمازِ جنازہ وغیرہ میں ایک مسلمان کی شرکت میں حرج نہیں۔
اور اگر شیعہ اثناءِ عشریہ ہے جیسا کہ عام طور ہمارے ہاں یہی لوگ شیعہ کہلاتے ہیں پس ان کے کفریہ عقائد ظاہر ہو چکے ہیں اور اہلِ علم و اہلِ فتویٰ نے ان کی تکفیر کی ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کو حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ کا فتویٰ سنا دوں مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں: اب تو ظاہر ہو گیا ہے:
وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت 84)
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى الخ۔
(سورة التوبہ: آیت 113)
مذکورہ آیات میں صراحتاً کفار کی نمازِ جنازہ پڑھنے، ان کے قبر پہ جانے اور ان کے لیے طلبِ مغفرت کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر کسی عالم نے شرکت کی ہے تو اس عالم سے وضاحت طلب کریں۔
(احسن الفتاوىٰ: جلد4 صفحہ 220)
مسلمان کو غیر مسلم کے مرگھٹ کو جانا جائز نہیں۔
(احسن الفتاوىٰ: جلد4 صفحہ233 )
ثمینة الفتاوىٰ: جلد 1 صفحہ 23)
