سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ حمراء الاسد میں - دفاعِ اہلِ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ حمراء الاسد میں

  علی محمد محمد الصلابی

دراصل یہ غزوہ، غزوۂ احد کی تکمیل اور اس کی آخری کڑی ہے، پندرہ شوال 3ھ کو شنبہ کی شام کو مسلمان غزوۂ احد سے لوٹ کر گھروں کو واپس آئے تھے اور ابھی رات گزار کر فجر کی نماز کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ مؤذنِ رسول نے جلد سے جلد دشمنوں کو دور بھگانے کی فورًا تیاری کا اعلان کیا، اور کہا کہ اس مہم میں صرف وہی لوگ شریک ہوں، جنھوں نے غزوۂ احد میں شرکت کی ہو، چنانچہ شرکائے اُحد اگرچہ زخم خوردہ اور تھکن سے چور تھے تاہم اعلان نبوی پر لبیک کہا، اس مہم میں آپﷺ پیش پیش تھے۔ آپ نے عبداللہ بن ابی کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت نہ دی اور نہ جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حزام رضی اللہ عنہما کے علاوہ کسی دوسرے غیر شرکاء کو شرکت کی اجازت دی، انھیں اجازت اس وجہ سے دی تھی کہ ان کے باپ غزوۂ احد میں شہید ہوگئے تھے اور بدر و اُحد میں خود اس لیے شرکت نہ کر سکے تھے کہ گھر پر اپنی جواں سال بہنوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے، بہرحال آپﷺ نے مہم کو آگے بڑھایا، اور مسلمانوں کا لشکر حرکت میں آ گیا، اللہ کے رسولﷺ پیش پیش ہیں اور سیدنا علیؓ غزوۂ احد کا پرچم یہاں بھی اٹھائے ہوئے ہیں، پھر مسلمانو ں کا لشکر رسول اکرمﷺ کی قیادت میں حمراء الاسد تک پہنچتا ہے، جو کہ مدینہ سے تیرہ میل کے فاصلہ پر ہے، وہاں مسلمانوں نے اپنے کجاوے اتار دیے، مسلمانو ں کی اس جرأت مندانہ اور بہادرانہ حرکت کو دیکھ کر یہودیوں اور منافقوں کا دل خوف سے دہل گیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ مسلمانو ں کی روحانی قوت بہت بلند اور مضبوط ہے اور اگر یہ شکست خوردہ ہوتے تو قریش کا پیچھا نہ کرتے۔

(تاریخ الإسلام: المغازی: الذہبی: صفحہ 226، علی بن أبی طالبؓ أحمد سید الرفاعی: جلد 1 صفحہ 10)۔

واضح رہے کہ نبی کریمﷺ کا بہ نفس نفیس حمراء الاسد تک جانے میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ دشمن کے حوصلہ کو پست کرنے میں نفسیاتی جنگ کا اسلوب بہت اہم اور مؤثر ہوتاہے، بہرحال اللہ کے رسولﷺ اپنے لشکر کے ساتھ حمراء الاسد پہنچے اور وہاں تین دن قیام کیا، رات میں جگہ جگہ آگ جلانے کا حکم دیا، جنھیں دور دور سے دیکھا جا سکتا تھا، اس طرح حمراء الاسد کا پورا علاقہ روشن ہو گیا اور قریش نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کا لشکر بہت بڑا ہے، مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں، چنانچہ وہ خوفزدہ اور مرعوب ہو کر لوٹ گئے۔ (غزوۃ أحد: ابوفارس: ص 51)۔

ابن سعدؒ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسولﷺ اپنے صحابہ کرامؓ کے ساتھ آگے بڑھے اور حمراء الاسد میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالا، مسلمانوں نے وہاں قیام کیا، رات کو تقریباً پانچ سو مقامات پر آگ جلا رکھی تھی، لشکر کی آواز اور آگ کی روشنی چاروں طرف سنی اور دیکھی جا سکتی تھی، اس طرح اس کارروائی کے ذریعہ سے اللہ نے دشمن کی ایک بھی نہ چلنے دی۔

(الطبقات: ابن سعد: جلد 2 صفحہ 49)۔

قرآن کریم میں اس سرد جنگ کی طرف اشارہ موجود ہے، اللہ نے صحابہ کرامؓ کی مدح و منقبت کے ضمن میں اسے ان الفاظ میں ذکر کیا ہے:

اَلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ مِنۡ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الۡقَرۡحُ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡهُمۡ وَاتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ‌۞ اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًاوَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ۞ فَانْقَلَبُوۡابِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوۡٓءٌ وَّاتَّبَعُوۡارِضۡوَانَ اللّٰهِ وَاللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِيۡمٍ۞اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ فَلَا تَخَافُوۡهُمۡ وَخَافُوۡنِ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏۞   (سورۃ آل عمران آیت 175)

ترجمہ: وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرمانبرداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لیے زبردست اجر ہے۔ وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا : یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہوگئے ہیں، لہٰذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بول اٹھے کہ : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ درحقیقت یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، لہٰذا اگر تم مومن ہو تو ان سے خوف نہ کھاؤ، اور بس میرا خوف رکھو۔