سترہواں (مدعی) امام مہدی عبد العزيز طرابلسى - ردِ رافضیت |…

سترہواں (مدعی) امام مہدی عبد العزيز طرابلسى

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

عبد العزيز طرابلسى ایک پہاڑی شخص نے 717 ہجری میں مہدویت کا دعویٰ کیا نصیری شیعہ اس کے پیروکاروں میں کثرت سے شامل ہوئے اس کی جماعت 3 ہزار تک پہنچ گئی۔

محمد، علی اور مہدی منتظر کا دعویٰ:

خود کو کبھی محمد مصطفیٰﷺ، کبھی سیدنا علی المرتضیٰؓ، کبھی مہدی منتظر کہتا تھا اس کا دعویٰ تھا کہ سوائے نصیریہ شیعہ کے دنیا بھر کے ادیان باطل ہیں اس کے پیروکاروں کا نعرہ تکبیر کی جگہ لا الہ الا علی لا حجاب الا محمد لا باب الا سلمان۔ 

کی آواز بلند کرتے تھے یعنی علی کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد کے سوا کوئی حجاب نہیں اور سلمان فارسی کے سوا کوئی دروازہ نہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر تبرا اس کا معمول تھا:

یہ اور اس کے ماننے والے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کو گالیاں دیا کرتے تھے مسلمانوں کی بے شمار مساجد کو شہید کیا اور مسلمانوں سے زبردستی اس نابکار کو سجدہ کراتے ہوئے کہتے کہ اپنے معبود کو سجدہ کرو انکار کرنے والے کو تہِ تیغ کر دیتے حاکمِ طرابلس کو جب اس کے ظلم و ستم کا علم ہوا تو اس نے اس کی سرکوبی کے لیے لشکر بھیجا جس نے ذلت و رسوائی کے ساتھ انہیں واصلِ جہنم کیا۔  

(کتاب الدعاہ: صفحہ113)