حضرت مولانا مفتی محمد انعام الحق قاسمی کا فتویٰ (رئیس دار الافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی) شیعہ امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنا
شیعہ امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنا
شیعہ امام کی اقتداء میں جنازہ کی نماز پڑھنا درست نہیں ہے، کیونکہ شیعہ مسلمان نہیں ہے۔
وفی الكفاية ويكره الاقتداء بصاحب الهوى والبدعة والحاصل ان كل من كان من اهل قبلتنا ولم يفعل فی هواه حتىٰ يحكم بكفره تجوز الصلوٰة مع الكراهة التحريمة خلفه وان كان هوى أهلها كالجهمى والقدرى الذى قال بخلق القرآن والرافضی الغالی الذی ينكر خلافة أبی بكر لا تجوز۔
والمراد بالمبتدع من يعتقد شيئا على خلاف ما يعتقده اهل السنة و الجماعة انما يجوز الاقتداء به مع الكراهة اذ لم يكن ما يعتقده يؤدى الى الكفر عند اهل السنة: أما لو كان مؤديا الى الكفر فلا يجوز اصلا كالغلاة من الروافض۔
وفى الهندية الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما و العياذ بالله فهو كافر، ولوقذف عائشة بالزنا كفر بالله من انكر امامة ابى بكر الصديق فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر، والصحيح انه كافر، وكذلك من انكر خلافة عمر فی اصبح الاقوال: كذا فی الظهيرة ويجب اكفارهم باكفار عثمان وعلى وطلحة وزبير وعائشة ويجب اكفار الروافض فی قولهم برجعة الاموات الى الدنيا، وبتناسخ الارواح وبانتقال روح الاله الى الائمة وبقولهم فی خروج امام باطن وبقولهم ان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى الى محمد دون على بن ابی طالب، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ468)
شیعہ کو کہاں دفن کریں:
اگر شیعوں میں سے کوئی مر جائے اور شیعہ لوگ وہاں موجود ہیں تو وہی لوگ اپنی میت کی تجہیز و تکفین کر لیں لیکن اگر وہاں کوئی شیعہ موجود نہ ہو تو دوسرے مسلمان اس کی تجہیز و تکفین مسلمانوں کی طرح کریں اور جنازہ کی نماز پڑھ کر دفن کریں۔
اور اگر زیدیہ کے علاوہ کسی اور فرقے سے تعلق ہے تو اس کی تجہیز و تکفین سنت کے مطابق نہ کریں اور جنازہ کی نماز بھی نہ پڑھیں بلکہ ویسے ہی دفن کر دیں۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ470)
شیعہ کی موت شہادت نہیں ہوتی
شہادت کے لیے پہلی شرط اسلام ہے زیدیہ کے علاوہ باقی شیعہ مسلمان نہیں ہیں، اس لیے ان کی موت شہادت نہیں ہوتی اور یہ لوگ شہید نہیں ہوتے۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد، 1 صفحہ، 469)
شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا
شیعہ زیدی کے علاوہ باقی تمام شیعہ مسلمان نہیں ہیں، خاص طور پر شیعہ اثناءِ عشریہ تحریفِ قرآن، امامت و معصومہ، تقیہ، متعہ اور تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کافر اور مرتد ہونے کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے بدترین کافر ہیں ان کے جنازے کی نماز پڑھنا اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔
وفی تفسير ابن كثير: ليغيظ بهم الكفار ومن هذه الآية انتزع الامام مالك، وفی رواية عنه بتكفير الروافض الذين يبغضون الصحابة قال: لانهم يغيظونهم، ومن غاظ الصحابة فهو كافر لهذه الآية، ووافقه طائفة من العلماء على ذلك۔
وفی الشامية نعم لا شك فی تكفير من قذف عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی على او ان جبريل عليه السلام غلط فى الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
وفی الهندية الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله فهو كافر ولوقذف عائشة بالزنا كفر بالله من انكر امامة ابى بكر الصديق فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر، والصحيح انه كافر، وكذلك من انكر خلافة عمر فی اصبح الاقوال كذا فی الظهيرة ويجب اكفارهم باكفار عثمان وعلى وطلحة وزبير وعائشة ويجب اكفار الروافض فی قولهم برجعة الاموات الى الدنيا، وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الاله الى الائمة وبقولهم فی خروج امام باطن وبقولهم ان جبرئيل عليه السلام غلط فی الوحى الى محمد دون على بن ابی طالب، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ 470)
اگر کسی مسلمان کا صرف شیعہ نے جنازہ کی نماز پڑھی ہے:
شیعہ اپنے کفریہ عقائد مثلاً تحریفِ قرآن، امامتِ معصومہ، تقیہ، متعہ اور تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں مرتد اور کافر ہونے کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے مسلمان نہیں، بلکہ کافر اور مرتد ہیں اگر کسی کافر یا مرتد نے جنازہ کی نماز پڑھی ہے تو نماز نہیں ہوگی، فرض کفایہ ادا نہیں ہوگا مسلمانوں پر اس کی نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔
وفی تفسير ابن كثير ليغيظ بهم الكفار ومن هذه الآية انتزع الامام مالك وفی رواية عنه بتكفير الروافض الذين يبغضون الصحابة قال لانهم يغيظونهم، ومن غاظ الصحابة فهو كافر لهذه الآية، ووافقه طائفة من العلماء على ذلك۔
وفی الشامية: نعم لا شك فی تكفير من قذف عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی على او ان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
وفی الهندية: الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما و العياذ بالله فهو كافر ولو قذف عائشة بالزنا كفر بالله من انكر امامة ابى بكر الصديق فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر، والصحيح انه كافر، وكذلك من انكر خلافة عمر فی اصح الاقوال: كذا فی الظهيرة ويجب اكفارهم باكفار عثمان وعلى وطلحة وزبير و عائشة و يجب اكفار الروافض فی قولهم برجعة الأموات الى الدنيا، وبتناسخ الأرواح و بانتقال روح الا له الى الائمة وبقولهم فی خروج امام باطن وبقولهم ان جبرئيل عليه السلام غلط فی الوحى الى محمد دون على بن ابی طالب، وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين۔
اسی طرح اگر کسی شیعہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی تو وہ بھی درست نہیں ہے، فرضِ کفایہ ادا نہیں ہو گا، مسلمانوں پر اس کا جنازہ دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔
وفی الدر المختار: ويكره امامة عبد و مبتدع لا يكفر بها وان كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا۔
والمراد بالمبتدع من يعتقد شيئا على خلاف ما يعتقده اهل السنة و الجماعة و انما يجوز الاقتداء به مع الكراهة اذ لم يكن ما يعتقده يؤدى الى الكفر عند اهل السنة أما لو كان مؤديا الى الكفر فلا يجوز اصلا كالغلاة من الروافض۔
وفی الكفاية ويكره الاقتداء بصاحب الهوى والبدعة والحاصل ان كل من كان من اهل قبلتنا ولم يفعل فى هواه حتىٰ يحكم بكفره تجوز الصلوٰة (مع الكراهة التحريمة) خلفه وان كان هوى أهلها كالجهمى والقدرى الذى قال بخلق القرآن والرافضی الغالی الذی ينكر خلافة ابی بكر لا تجوز۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ 472)
*جان بوجھ کر شیعہ کے جنازہ کی نماز جائز سمجھ کر پڑھنا:*
شیعہ مسلمان نہیں ہیں، ان کے کلمے، عقائد وغیرہ مسلمانوں سے مختلف ہیں لہٰذا جان بوجھ کر شیعہ کے جنازہ کی نماز جائز سمجھ کر پڑھنے کی صورت میں ایمان کی تجدید کرنا لازم ہو گا اور اگر شادی شدہ ہے تو نکاح کی بھی تجدید کرنا ضروری ہو گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
وفی تفسير روح المعانج قال الله تعالىٰ: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ (وَلَا تُصَلِّ) والمراد من الصلوٰة المنهى عنها صلاة الميت المعروفة، وهی متضمنة للدعاء والاستغفار والاستشفاع وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ والمراد: لا تقف عند قبره للدفن و الزيارة والقبر فی المشهور مدفن الميت، ويكون بمعنى الدفن وجوزوا ارادته هنا ايضا۔
و فی تبيين الحقائق قال (وشرطها) ای شرط الصلوٰة عليه اسلام الميت وطهارته اما الاسلام فلقوله تعالىٰ وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ يعنی المنافقين وهم الكفرة ولانها شفاعة للميت اكراماً له وطلباً للمغفرة والكافر لا تنفعه الشفاعة ولا يستحق الاكرام۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ473)
شیعہ کو غسل دینا اور جنازہ پڑھنا:
اگر شیعہ مر جائے اور اس کو غسل دینے کے لیے کوئی شیعہ نہ ہو تو اس کو مسلمان غسل دے کر دفن کریں، مگر غسل، کفن اور دفن سنت کے مطابق نہ کریں اور جنازہ بھی نہ پڑھے بلکہ اس پر پانی بہا کر کپڑے میں لپیٹ کر گڑھے میں ڈال کر مٹی ڈال دیں۔
(غسل کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: صفح273)
بوہری شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنے، ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم
بوہری شیعہ بھی مسلمان نہیں ہیں ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ146)
شیعہ کو غسل دینا اور کفن دفن
اگر کوئی شیعہ مر جائے اور اس کو غسل دے کر دفن کرنے کے لیے کوئی شیعہ نہ ہو تو مسلمان اس کو غسل دے کر دفن کر دیں مگر غسل، کفن اور دفن سنت کے مطابق نہ کریں، بلکہ اس پر پانی بہا کر کپڑے میں لپیٹ کر گڑھے میں ڈال کر مٹی ڈال دیں۔
(میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا: جلد1 صفحہ468)
