ابو العباس احمد بن عبد اللہ بن ہاشم معروف بہ ملثم رمضان 658 ہجری میں قاہرہ میں پیدا ہوا ابتدائی تعلیم شیخ تقی الدین بن دقیق العید مشہور شافعی فقیہ سے حاصل کی اور حلقہ درس میں حدیث سماعت کرتا رہا علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد عبادت و ریاضت میں غلو کے ساتھ مشغول ہو گیا۔
مہدویت اور معراج کا دعویٰ:
مرشد کامل کی رہنمائی میسر نہ ہونے کے باعث غوایت شیطانی کا شکار ہو گیا اور 689 ہجری میں مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے حالتِ بیداری میں ساتواں آسمان، سدرۃ المنتہیٰ اور وہاں سے عرشِ عظیم تک سیر کرائی گئی ہے اس وقت جبرئیل امین اور ملائکہ کا جم غفیر میرے ہمراہ تھا خدا نے مجھ سے ہم کلام ہو کر فرمایا کہ تم ہی مہدی موعود ہو ملائکہ نے مجھے بڑی بڑی بشارتیں دیں خود سرورِ کائناتﷺ سے میری ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا کہ تو میرا فرزند ہے اور تو ہی مہدی موعود ہے اور آپﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اپنی مہدویت کا اعلان کرو احمد کے ان بلند و بانگ دعوؤں کی خبر سن کر حاکمِ قاہرہ نے اسے قید خانہ میں ڈلوا دیا جہاں اسے بار بار زہر دیا گیا مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا جب وہی زہر دوسرے واجب القتل قیدی کو پلایا تو وہ فوراً ہلاک ہو گیا۔
میں ہدایت دینے والا مہدی ہوں:
خوشی کی بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ بعد اسے توبہ کی توفیق نصیب ہو گئی اور اس نے اعلان کیا کہ میں وہ مہدی نہیں ہوں جس کی شہادت آنحضرتﷺ نے دی ہے بلکہ میں صرف مہدی بمعنیٰ ہدایت یافتہ ہوں 740 ہجری میں 80 سال سے زائد عمر پا کر قاہرہ میں دار آخرت کی طرف کوچ کر گیا۔
(در کامنہ قلمی نسخہ مصنفہ ابنِ حجر عسقلانی: جلداول صفحہ 62، 63)