600 ہجری میں موضع سجوان گیلانی کے علاقہ میں محمود واحد گیلانی نے مہدویت کا دعویٰ کیا اور کہتا تھا کہ یہ دور دور محمودی ہے اور خود کو معاذ اللہ سرکارِ دو عالمﷺ سے افضل قرار دیتے ہوئے کہتا تھا اب ارض و سماء میں محمودی کا دین چلتا ہے اور اس کا قول تھا کہ میری بعثت سے عرب کے فخر و غرور کا دور ختم ہو چکا ہے اور اس زعم باطل میں ڈوب کر اکثر کہا کرتا تھا:
رسید نوبتِ رندان عاقبت محمود
گزشت آں کہ عرب طعنہ بر عجم مے زد
اس کا دعویٰ تھا کہ جب جسدِ محمد رسول اللہﷺ کمال کو پہنچ گیا تو میں پیدا ہوا اور میرے ہی بارے میں یہ آیت قرآنی نازل ہوئی ہے:
عَسٰۤى اَنۡ يَّبۡعَـثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ۞
(سورۃ الاسراء: آیت 79)
ترجمہ: اے محمدﷺ عنقریب آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر پہنچائے گا۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کا دعویٰ:
محمود واحد کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ آنحضرتﷺ کا یہ فرمان ہے کہ میں اور علی ایک نور سے ہیں اور اے علیؓ تیرا گوشت میرا گوشت ہے اور تیرا جسم میرا جسم ہے لہٰذا ان دونوں بزرگوں کے اجزائے اجسام کے جمع ہونے سے میں محمود بنا ہوں۔
محمود واحد ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کا قائل تھا کہا کرتا تھا کہ سیدنا حسینؓ پیدائش اول میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور یزید پیدائش اول میں فرعون تھا چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دریائے نیل میں غرق کیا تھا اس لیے فرعون نے یزید کے رنگ میں حضرت حسینؓ پر فرات کا پانی بند کرا کر انہیں پیاسا شہید کرایا وہ قرآنی آیات میں تاویل اور احادیث نبویہ کے غلط معانی بیان کرتا تھا واحد یہ فرقہ کے لوگ دنیا کے اکثر حصوں میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی اکثریت ایران میں ہے یہ لوگ آفتاب کا احترام کرتے ہیں اور اس کی طرف منہ کر کے دعائیں مانگتے ہیں۔ ان کا سلام اللہ اللہ ہے اس مذہب کے خاص آدمی امین کے لقب سے پکارے جاتے ہیں۔
ایرانی بادشاہ نے بھی اسے امام مہدی تسلیم کر لیا تھا:
واحدی کہتے ہیں کہ ایران کے حاکم شاہ عباس نے بھی واحدی مذہب اختیار کر لیا تھا مگر پھر عوام کے عتاب سے بچنے کے لیے اس نے اس گروہ کے مشہور امین لقب کے حامل تراب اور کمال کو مروا دیا۔
(ملخص از: ائمہ تلبیس: جلد2 صفحہ300، 303)