شیعہ کے لیے دعائے مغفرت کرنا - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کے لیے دعائے مغفرت کرنا


سوال:مولانا مودودی اور امین احسن اصلاحی نے ایک تار تعزیت کے انتقال کے موقع پر ایک شیعہ کی بیوی کو ارسال کر کے مغفرت کی درخواست رب العالمین کے حضور میں پیش کی ہے۔ تار: نوائے وقت میں چھپا ہے بندہ نے مولانا مودودی سے دریافت کیا جواب میں انہوں نے کہا کہ شیعہ کافر نہیں ہیں، اس واسطے مغفرت کی دعا کی، اور علماء ان کے کافر نہ ہونے پر متفق ہیں۔  

دوسری دلیل یہ دی کہ حکومت نے قانونِ شرعی کے سلسلے میں شیعہ علماء کو بھی شامل کیا تھا، اور ان کی ترمیمات کو بھی آئینِ شرعی میں شامل کیا گیا تھا، لہٰذا یہ کافر نہیں ہیں حضور کا کیا خیال ہے؟

جواب: شیعوں کی تعزیت اور مرنے کے بعد اگر وہ ان اہلِ تشیع میں سے ہوں جن کے کفر کا فتویٰ ہے تو ان کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں: قال الله تعالىٰ: مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 113) 

اور جن پر کفر کا فتویٰ نہیں ان کے لیے دعائے مغفرت کی گنجائش ہے لیکن وہ بھی چونکہ مبتدع ہیں، اس لیے مشہور علمائے دین کو ان کے حق میں: علی الاعلان: ایسا کرنے سے پرہیز بہتر ہے۔  

(فتاویٰ دار العلوم کراچی: جلد2 صفحہ351)