آل رسولﷺ کے لیے مخصوص احکام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آل رسولﷺ کے لیے مخصوص احکام

  علی محمد محمد الصلابی

مالِ زکوٰۃ کھانے کی حرمت:

عبدالمطلب بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِيْ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا ہِی أَوْسَاخُ النَّاسِ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1072)۔

’’آل محمد کے لیے صدقہ کا مال کھانا جائز نہیں ہے، یہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔‘‘

وہ رسول اللہﷺ کی وراثت کے حق دار نہیں:

سیدنا ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3093، صحیح مسلم حدیث نمبر 1757)۔

’’ہم انبیاء اپنے مال کا وارث نہیں بناتے، ہم نے جو بھی چھوڑا صدقہ ہے۔‘‘

اس حدیث کو ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف، عباس بن عبدالمطلب، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث کتب صحاح و مسانید میں موجود ہیں۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 195، البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 252)

مال غنیمت (جو مال کافروں سے ان پر لڑائی میں فتح و غلبہ ہونے کے بعد ملے اسے کہتے ہیں۔ النہایۃ: جلد 3 صفحہ 389)

اور مال فے (جو مال بغیر لڑائی کے کفار سے حاصل ہو اسے فے کہتے ہیں۔ النہایۃ: جلد 3 صفحہ 482)کے پانچویں حصہ کے مستحق ہیں:

مالِ غنیمت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞ (سورۃ الأنفال آیت 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی، جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اور مالِ فے کے بارے میں فرمایا:

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوااللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌۞ (سورۃ الحشر آیت 7)

ترجمہ: اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

نبی کریمﷺ کے ساتھ انھیں بھی درود میں شامل کرنا:

کعب بن عجرہؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول آپ کے اہل بیت پر ہم کیسے درُود بھیجیں؟ کیونکہ سلام کی کیفیت تو ہمیں اللہ نے سیکھا دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

قُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3370، صحیح مسلم: حدیث نمبر 406)۔

’’کہو، اے اللہ رحمت بھیج محمدﷺ اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت بھیجی ہے ابراہیم(علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر۔ تو بہت تعریف کیا گیا بزرگوار ہے، اے اللہ برکت نازل کر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد پر جس طرح برکت نازل کیا ہے ابراہیم(علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر تو بہت تعریف کیا ہوا بزرگوار ہے۔‘‘

وہ خصوصی عقیدت و محبت کے مستحق ہیں:

سیدنا زید بن ارقمؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2408)۔

’’میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔‘‘

امام قرطبیؒ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس وصیت نبوی اور آپﷺ کی بار بار تاکید کا واجبی تقاضا ہے کہ آپﷺ کے اہل بیت سے محبت اور ان کی توقیر کی جائے، بلکہ یہ ایک فرض ہے جسے چھوڑنے والے کے لیے کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہے۔

(فیض القدیر: المناوی؛ جلد 3 صفحہ 14)۔

اس وصیت نبوی کی اہمیت اور تقاضا کو خلیفۂ اول ابوبکر صدیقؓ نے اچھی طرح سمجھا، ان کے عقیدت مند رہے، انھیں تکریم اعزاز سے نوازا اور لوگوں کو بھی اس بات کی دعوت دی، فرمایا کہ محمدﷺ کے اہل بیت کے حقوق کا خیال رکھو۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3713)۔ 

 ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں کسی طرح تکلیف نہ دو اور نہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرو۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 97)۔

امام نوویؒ کہتے ہیں کہ ان کا احترام کرو اور ان کی عزت کرو۔

(العقیدۃ فی أہل بیت بین الإفراط و التفریط: صفحہ 175)۔

آپؓ نے حضرت علیؓ سے ان حقوق کی پاسداری کی تاکید ان الفاظ میں کی ہے: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بے شک رسول اللہﷺ کے اقرباء سے صلہ رحمی کرنا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3712)۔

پس اہل بیتؓ سے محبت کرنا اہل سنت و الجماعت کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: اہل سنت و الجماعت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے اہل بیت سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں وصیت نبوی کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 3 صفحہ 407)۔

 قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں:محبت نبویﷺ کی علامت یہ ہے کہ آپﷺ نے جس سے محبت کی ہے اس سے محبت کی جائے اور جو آپ سے قرابت داری کے باعث اہل بیتؓ میں سے ہے اور صحابہؓ میں سے ہے خواہ مہاجرین میں سے ہو یا انصار میں سے اس سے محبت کی جائے۔

(الشفاء: جلد صفحہ 573)۔

حافظ ابن کثیرؒ کا قول ہے کہ اہل بیتؓ کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی عزت و تکریم کے ہم قطعاً منکر نہیں کیونکہ حسب و نسب اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے روئے زمین پر بسنے والوں میں سب سے پاک اور شریف ترین گھرانے سے ان کا تعلق ہے، خاص طور سے ان کی تقدیس و تکریم اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ واضح اور صحیح سنت نبوی کے پابند تھے اور اپنے اسلاف کی طرح مکمل حق پرست تھے، جیسا کہ عباس اور ان کی اولاد، علی اور ان کے اہل بیت اور ان کی ذریت رضی اللہ عنہم ۔

(تفسیر القرآن العظیم: ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 113)۔