محمد بن عبد اللہ تومرت 485 ہجری میں سوس جو کہ بلادِ مغرب کا ایک پہاڑی علاقہ ہے اس میں پیدا ہوا، اور سیدنا حسن مجتبیٰؓ کی اولاد میں سے تھا عالم و فاضل، فصیح و بلیغ و ماہرِ علومِ عربیہ تھا عبادت، زہد و تقویٰ میں بڑی شہرت رکھتا تھا علمِ جفر کی ایک پرانی کتاب میں یہ پڑھ کر کہ سوس میں اولادِ فاطمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص داعی الی اللہ ہوگا، اس کا مستقر ی، ن، م، ل، پر مشتمل ہوگا اور اس کا خاص دست راست و معاون ع، ب، د، م، و، م، ن، عبد المؤمن ہوگا، اس کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ تینمل اور عبد المؤمن کو تلاش کرے اس کی ایک خاص عادت یہ تھی کہ خلافِ شریعت جو بات کسی جگہ پر بھی دیکھتا فوراً اپنے ہاتھ سے اسے روکنے کے لیے آگے بڑھتا بارہا لڑائی جھگڑے، امیر زادوں، شہزادوں اور شہزادیوں سے مارکٹائی کے واقعات اس کی ابتدائی زندگی میں پیش آئے اور دیندار لوگ اس کے گرویدہ ہوتے گئے خود اس قدر سادہ زندگی گزارنے کا عادی تھا کہ اس کی بہن چرغہ کاٹ کر جو مزدوری کی اجرت کماتی یہ دونوں اس پر گزارہ کرتے حکومتِ قاہرہ و سکندریہ نے اسے خارج البلد کر دیا تو بحری جہاز پر سوار ہو کر بلادِ مغرب کی طرف چلا مگر جہاز میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شدت سے کرنے کی وجہ سے اہلِ جہاز نے اسے سزا کے لیے نصف دن تک پانی میں ڈبوئے رکھا مگر اسے جب کچھ بھی نہ ہوا تو تمام مسافر اس کے گرویدہ ہو گئے جہاز سے اتر کر مہدیہ پھر بجایہ آیا اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا ڈھولکیں پھاڑنے، شراب کے خم توڑنے اور بازار میں جا کر فحاشی کے مٹانے کا سلسلہ دیکھ کر حاکمِ بجایہ نے اسے یہاں سے نکل جانے کا حکم دیا یہاں سے چل کر عبد اللہ دیارِ مغرب میں پہنچا اور ملالہ گاؤں میں سرِ راہ اس کی ملاقات ایک ہونہار نوجوان جس کا والد مٹی کے برتنوں کا کام کرتا تھا سے ہوئی اس کے پوچھنے پر جب اس نے اپنا نام عبد المؤمن بتایا تو ابنِ تومرت کو گویا گم شدہ خزانہ مل گیا ادہر عبد المؤمن بھی بچپن کے بعض واقعات اور کچھ خوابوں کی وجہ سے مستقبل کا بادشاہ بننے کے جنون میں مبتلا تھا چنانچہ اس نے ابنِ تومرت کی شاگردی قبول کر لی ملالہ میں چند روز درس و تدریس اور دعوتِ الی الخیر جاری رکھنے کے بعد مراکش کے شہر تلمسان پہنچا اور مسجدِ عباد میں جمعہ کے موقع پر بادشاہ ابو الحسن علی بن یوسف بن تاشفین کی نماز کی جگہ پر بیٹھ گیا نیک دل بادشاہ نے دوسری جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی تو نماز کے بعد ابنِ تومرت نے کھڑے ہوئے بادشاہ کی ذمہ داریوں اور ظلم و نا انصافی کے خلاف تقریر شروع کر دی بادشاہ نے سمجھا کہ کوئی حاجت مند عالم ہے اس لیے اس کی غرض پوری کرنے کا حکم دے کر چلا گیا ان ہی ایام میں شہزادی کو سہیلیوں کے مابین بے پردہ دیکھ کر ابنِ تومرت نے حملہ کر دیا اور شہزادی سواری سے گر کر زخمی ہو گئی اور خوب شور و ہنگامہ ہوا بادشاہ کو وزراء نے اس کے قتل یا دائم الحبس کے مشورے دیے مگر بادل نخواستہ ابنِ یوسف بن تاشفین نے اس کے مراکش سے نکالنے کا حکم دیا یہاں سے نکل کر مراکش کے دوسرے شہر اغمات میں پہنچا اور وہاں ایک رئیس سے دوستی ہو گئی اس نے کہا اگر بادشاہ و سلطنت کے خلاف کچھ کرنے کا ارادہ ہے تو تم تینمل چلے جاؤ تینمل کا نام سنتے ہی ابنِ تومرت جھوم اٹھا کیونکہ علمِ جفر کی روشنی میں اسے اس کی تلاش تھی۔ جب تینمل کے عوام کو درویش صفت قافلہ کی آمد کا علم ہوا تو وہ پروانہ وار اس کے گرد جمع ہونے لگے جب تعداد کافی ہو گئی۔
دعویٰ مہدویت:
ابنِ تومر نے اپنے نام، خاندان وغیرہ کے حوالوں سے مہدویت کا دعویٰ کر دیا جسے ہزاروں جہلا نے تسلیم کر لیا وہ اپنے پیروکاروں کو موحدین کے لقب سے یاد کرتا تھا ابنِ تومر نے عوام کے یقین میں اضافہ کے لیے کبھی عبد اللہ و نشریبی جیسے فصیح و بلیغ ماہرِ لغات و عالمِ حدیث خطیب کو کئی ماہ تک گونگا اور پاگل ہیئت و شکل اختیار کرا کر اچانک مسجد کے منبر پر خطبہ دلوائے اور اپنے مہدویت کی تصدیق کرانے کا ڈھونگ رچایا تو کبھی دور میدان کے ویران کنویں میں 3 آدمیوں کو داخل کرا کر پھر لوگوں کو اس عنوان پر ساتھ لے جا کر وہاں کھڑا کیا کہ تمہیں فرشتوں کی آوازیں سناتا ہوں اور اپنی مہدویت کی صداقت کی تائید کراتا ہوں جب اس کے سوالات کے مطابق خود ساختہ فرشتے کنویں کے اندر سے جواب دے چکے تو کنواں مٹی سے بھروا دیا اور وہ تینوں افراد خاموشی سے زندہ دفن کر دیے تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ کنویں میں موجود فرشتے تو چلے گئے ہیں اور راز فاش نہ ہو اس طرح قبرستان کی پرانی قبروں میں چند لوگوں کو بٹھا کر ان کے سانس کے لیے کچھ سوراخ رکھ کر صبح کے اندھیرے میں لوگوں کو آوازیں سنانے کے لیے لے جا کر کہا کہ میری خاطر شہید ہونے والے قبروں سے بول کر بتا رہے ہیں کہ وہ اگلے جہاں میں خوش ہیں۔
غرض کہ مخالفین کو جہنمی قرار دے کر قتل کرانے اور حامیوں کو جنت کی بشارت دے کر بادشاہِ مراکش کی فوجوں پر غالب کرنے میں بار یہ کامیاب ہوتا رہا اور کئی علاقوں پر حکومت قائم کرنے اور سلطنتِ مراکش کی فوجی قوت کو کچل کر غیر مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا آخر 524 ہجری میں مراکش پر حمل کر کے ابو بکر بن علی بن یوسف بن تاشفین کو شکست دے کر شہر کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہوا کچھ روز بعد محاصرہ اٹھا لیا اور پھر اپنے ساتھی عبد المؤمن کو کچھ نصیحتیں کر کے اپنا قائم مقام بنا کر دار آخرت کی طرف چل بنا عبد المؤمن نے ابنِ تومرت کی وفات کے بعد 534 ہجری میں تیاریاں مکمل کر کے مراکش پر حملہ کر دیا اور سلطان علی بن یوسف کی زندگی کا چراغ گل کر کے خاندانِ مرابطین کی شاہی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا اس نے مراکش، تیونس، ہسپتانیہ اور طرابلس الغرب کے علاقوں کو فتح کر کے سرحدِ مصر سے بحرِ الکاہل کے ساحلی ممالک پر اپنی حکومت کا پھریرا لہرایا اس طرح محمد بن عبد اللہ تومرت کی مہدویت آگے چل کر عبد المؤمن کے اقتدار کا زینہ بنی۔