اسماعیلی کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کرنا
سوال: میرا ایک دوست اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتا تھا، وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا، اس کا انتقال ہو گیا ہے کیا میں اس کو قبر پر جا کر دعائے مغفرت کر سکتا ہوں؟
جواب:اس کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں، ایصالِ ثواب بھی جائز نہیں، اور ثواب اس کو پہنچ بھی نہیں سکتا، کیونکہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ کافر ہیں اور کافر کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب جائز نہیں۔
قال الله تعالىٰ: اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت 80)
وقال الله تعالىٰ: مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت 113)
(فتاوىٰ دار العلوم کراچی: جلد2 صفحہ351)
