حدیث ’’کسائ‘‘ یعنی چادر اوڑھانے والی حدیث اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مفہوم
علی محمد محمد الصلابیحدیث ’’کسائ‘‘ یعنی چادر اوڑھانے والی حدیث (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2424) کتاب فضائل الصحابۃ۔) اور اہل بیت کا مفہوم:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ ایک دن صبح کے وقت نکلے، آپ چادر اوڑھے ہوئے تھے، آپ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو چادر میں لے لیا اور کہا:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح سے مکمل ہو خوب۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2424،کتاب فضائل الصحابۃ)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو صحابہ کرامؓ پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ وہ لوگ فضائلِ علیؓ کو چھپاتے ہیں، یہاں علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کی فضیلت و منقبت کو وہی سیدہ عائشہؓ بیان کر رہی ہیں، جنھیں حاقدین یہ کہہ کر مطعون کرتے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ سے بغض رکھتی تھیں۔
(حقبۃ من التاریخ: صفحہ187)۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ مَنۡ يَّاۡتِ مِنۡكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفۡ لَهَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا۞وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞ يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَيَـطۡمَعَ الَّذِىۡ فِىۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا۞ وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا۞(سورۃ الأحزاب آیت 28 تا 34)
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کر دیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہٰذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔
ان آیات کریمہ میں صرف نبی کریمﷺ کی ازواج مطہراتؓ کو مخاطب کیا گیا ہے، بات انھیں سے شروع ہوئی ہے اور انھیں پر ختم ہوئی ہے۔ کچھ باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور کچھ کاموں سے روکا گیا ہے، اس پر وعدہ ہے اور وعید ہے، لیکن چونکہ ان احکامات کی افادیت ازواج مطہراتؓ کے ساتھ دوسروں کے حق میں بھی تھی اس لیے ’’تطہیر‘‘ میں مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا، کیونکہ قاعدہ کے اعتبار سے جہاں مذکر اور مونث کا اجتماع ہو جائے، وہاں مذکر کو ترجیح دی جاتی ہے، چنانچہ آیات کی افادیت تمام اہل بیتؓ کو شامل ہوگی، جن میں علی، فاطمہ، حسن، اور حسین رضی اللہ عنہم خاص طور سے شامل ہیں اور اسی خصوصیت کی بنا پر آپﷺ نے ان کے لیے خاص طور سے دعا بھی فرمائی، اسی طرح اہل بیت کا اطلاق علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بھی ہوگا جیسا کہ زید بن ارقمؓ کی حدیث میں ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا: کیا آپﷺ کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں آپﷺ کی بیویاں اہل بیت میں سے ہیں۔ لیکن اہل بیت جن پر زکوٰۃ حرام ہے وہ آل علی، آل جعفر، آل عقیل اور آل عباس سبھی ہیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1078 کتاب فضائل الصحابۃ۔)
لہٰذا بدلالت آیتِ کریمہ ازواجِ مطہراتؓ اہل بیت میں نیز علی، فاطمہ، حسن، حسین رضی اللہ عنہم حدیث کساء اور زید بن ارقم کی حدیث کی روشنی میں اہل بیتؓ میں داخل ہیں اور آل عباس، آل عقیل، آل جعفر بھی حدیث زید بن ارقمؓ کی روشنی میں اہل بیت میں داخل ہیں اور اسی طرح آل حارث بن عبدالمطلب بھی اہل بیتؓ میں داخل ہیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 167)