گیارہواں مدعی مہدی حسین بن زکرویہ معروف بہ صاحب شمامہ - ردِ…

گیارہواں مدعی مہدی حسین بن زکرویہ معروف بہ صاحب شمامہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

زکرویہ کا بیٹا حسین بھی مہدویت کا مدعی بن کر اپنے آپ کو احمد کے نام اور ابو العباس کی کنیت سے متعارف کرانے لگا اکثر بادیہ نشینوں کے قبائل نے اس کی جھوٹی مہدویت کو تسلیم کر لیا اس کے چہرہ پر ایک تل تھا جسے خدا کی طرف سے مہدی کی علامت قرار دیتا تھا اس وجہ سے یہ صاحب شمامہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔

دعویٰ مہدویت کے لیے قرآن میں تحریف:

اس کے چچا زاد بھائی عیسیٰ بن مہدی نے اسے مدثر کا لقب دے کر کہا کہ قرآن میں تم ہی مدثر کے نام سے پکارے گئے ہو یہ اپنے پیروؤں کو مسلح کر کے دمشق پر چڑھ دوڑا اور اہلِ شہر نے دولت و زر دے کر صلح کی بعد ازاں حمص کو فتح کر کے منبروں پر امیر المومنین کے نام سے اپنے خطبے پڑھوانے شروع کرائے پھر حماہ و مصرہ النعمان پر غالب ہو کر قتل و غارگری کا مرتکب ہوا پھر بعلبک پہنچ کر قتل عام شروع کرایا حتیٰ کہ بچوں اور جانوروں تک ذبح کرا دیا اس کے بعد سلمیہ کے دھات کی طرف رخ کیا اور لوگوں کو قتل کیا، بعض کو قید کیا۔

جھوٹے مہدی کو سولی پر لٹکایا گیا:

بالآخر اس کو سرکش اور فتنہ انگیزی کی سزا سے دوچار کرنے کے لیے خود خلیفہ مقتفی باللہ کو ایک لشکر جرار لے کر میدان میں آنا پڑا اور حماہ کے باہر میدان میں حسین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنا پڑی جس میں سخت جدال و قتال کے بعد حسین کو شکست ہوئی اور اس کے ہزاروں پیروکار تہہ تیغ ہو کر واصل جہنم ہو گئے اور باقی کلب کی طرف بھاگ گئے اور ابنِ طولون نے ان کو بھی آرام سے نہ بیٹھنے دیا حسین روپوش ہونے کی صورت میں حلیہ بدل کر رحبہ پہنچا مگر اس کو گرفتار کر کے خلیفۃ المسلمین کے پاس برکتہ پہنچایا گیا جہاں اسے 200 کوڑے لگوائے گئے پھر اس کو سولی پر لٹکایا گیا۔  

(ملخص ائمہ تلبیس: جلد1 صفحہ7 بحوالہ کامل ابنِ اثیر: جلد7 صفحہ 172)