مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃاللہ کا فتویٰ شیعہ کا جنازہ پڑھنے پڑھانے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا حکم
سوال: شیعہ مرد سے سنی عورت کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں اور اس کے برعکس؟
جواب:شیعہ تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ایسا عقیدہ رکھتے ہوں جو قرآنِ کریم کی صریح آیات یا تواتر کے خلاف ہو، مثلاً: حضرت علیؓ کو معبود مانتے ہوں یا حضرت عائشہ صدیقہؓ پر جو تہمت لگائی گئی تھی اسے سچا جانتے ہوں یا حضرت ابوبکرصدیقؓ کے صحابی ہونے کا انکار کرتے ہوں یا قرآنِ شریف کو تحریف شدہ یا غیر معتبر مانتے ہوں، ایسے لوگ بالاتفاق کافر ہیں، ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا پڑھانا یا ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا کسی سنی مسلمان کو جائز نہیں، اور ایسا عقیدہ رکھنے والے کسی شیعہ سے کسی سنی لڑکی کا نکاح نہیں ہو سکتا، نہ ایسا عقیدہ رکھنے والی شیعہ لڑکی سے مسلمان مرد کا نکاح ہو سکتا ہے۔
دوسری قسم ان کی ہے جو ایسا عقیدہ تو نہیں رکھتے مگر خلفائے ثلاثہؓ پر تبرا کرتے ہیں، ان کے کافر ہونے میں علماء کا اختلاف ہے، اور راجح یہی ہے کہ کافر نہیں، اگرچہ شدید قسم کے فاسق ہیں، ان کے جنازہ پر نماز پڑھنے سے احتیاط کرنی چاہیے اور مناکحت سے بھی پرہیز کرنا بہتر ہے۔
نقل فى البزازية عن الخلاصة ان الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر وان كان يفضل علی فهو مبتدع
وفی رد المحتار: لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی على او ان جبريل عليه السلام غلط فی الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
تیسری قسم وہ لوگ ہیں جو مذکورہ بالا خرابیوں میں مبتلا نہیں، مگر حضرت علیؓ کو خلفائے ثلاثہؓ سے افضل مانتے ہیں، ان کے کافر نہ ہونے پر سب علماء کا اتفاق ہے، مگر یہ اہلِ بدعت ہیں، دوستانہ روابط ان سے بھی رکھنا مناسب نہیں ان پر نمازِ جنازہ سنی مسلمان پڑھے تو جائز ہے سنی مرد و عورت کا نکاح ان سے ہو سکتا ہے، مگر یاد رہے کہ یہ قسم بھی سنی لڑکی کے کفو نہیں اور عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر ان سے نکاح نہیں کر سکتی۔
(فتاوى دار العلوم کراچی: جلد 3 صفحہ207)
