شیعوں کے کفن دفن میں شریک ہونا
سوال:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندوستان کے صوبہ مدھیہ پیش کے سنی حضرات شیعوں کے کفن دفن میں شریک ہوتے ہیں، نیز ان کے ساتھ نکاح بھی کرتے ہیں کیا یہ دفن میں شرکت و نکاح دونوں چیزیں درست ہیں یا نہیں؟
جواب:کفریہ عقائد والے شیعوں کے ساتھ مناکحت اور ان کے کفن دفن میں شرکت جائز نہیں اس لیے سنی حضرات کو ان لوگوں سے راہ و رسم قائم کرنے سے پہلے ان کے عقائد کی تحقیق ضرور کر لینی چاہیے کیونکہ ہندوستان میں پائے جانے والے اکثر شیعہ فرقہ امامیہ اثناءِ عشریہ سے تعلق رکھتے ہیں، جن کو علمائے اہلِ سنت نے ان کے کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر قرار دیا ہے۔
وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامها احكام المرتدين۔
(الفتاوىٰ الهندية: جلد 2 صفحہ 264)
ولا يصح أن ينكح مرتد ومرتدة احدا من الناس مطلقاً۔
(الدر المختار مع الشامی: جلد3 صفحہ200 )
(كتاب النوازل: جلد8 صفحہ328)
جواب:جو شخص کفریہ عقائد رکھتا ہو مثلاً: ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت باندھتا ہو یا حضراتِ شیخینؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا قرآنِ کریم میں کمی بیشی کا قائل ہو تو ایسے شخص سے کسی مسلمان لڑکی کا نکاح قطعاً حرام ہے، اور کسی مسلمان کے لیے شیعہ مسلک کے مطابق نماز پڑھنا یا کوئی بھی عبادت کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
ان الرافضی اذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر۔
(شامی: جلد6 صفحہ 377)
لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق۔
(الفتاوىٰ الهندية)
2: آپ نے تحریر کیا ہے کہ جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتا ہو، یہاں سوال یہ ہے کہ کفریہ عقائد کیا ہیں؟ ان کی تفصیل آپ نے نہیں لکھی، دوسری چیز آپ نے تحریر کی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت باندھتا ہو، آخر وہ تہمت کیا ہے؟ تیسری چیز آپ نے تحریر کی ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی صحابیت کا منکر ہو یہاں پر غور طلب یہ ہے کہ وہ تو تھے ہی صحابی، کسی کے انکار سے صحابیت ختم تھوڑے ہی ہو گی، پھر وہ کسی بنیاد پر صحابیت کا منکر ہوگا اور کیوں؟ چوتھی چیز آپ نے تحریر کی ہے کہ شیعہ مسلک کے مطابق نماز پڑھنا یا کوئی بھی عبادت کرنا ہرگز جائز نہیں، یہاں پر سوال یہ ہے کہ ان کی عبادت میں حرام کام کیا ہیں، جن کی بناء پر ان کی نماز یا عبادت میں ان کی تائسی کرنا جائز نہیں؟ میں اپنی بات بتاؤں مسئلہ میں شرم نہیں کے اصول کے تحت یہ ہے کہ میں نے محلہ میں رہنے والے شیعہ سے عشقیہ شادی ضرور کی ہے لیکن مجھے معلوم ہوا تھا اور میرے شوہر نے بھی کہا تھا کہ شیعہ مسلمان ہیں، اور ایک مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے، آپ کے اس جواب نے میری نیند اڑا دی ہے، جلد از جلد جواب دیجیے تاکہ میں کوئی فیصلہ کروں اور اپنی آخرت کو سنواروں۔
جواب: جو عقیدہِ قرآن کریم اور متواتر احادیثِ شریفہ سے ثابت ہو، اس کا انکار موجبِ کفر ہے، اور قرآنِ پاک میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی براءت کے بارے میں متعدد آیات نازل ہوئی ہیں جو سورۃ نور میں مذکور ہیں لہٰذا اس براءت کے باوجود کوئی دریدہ دہن شخص حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بدکاری کی تہمت باندھے اور ان کو بدنام رکھے تو یہ قرآن کا انکار اور موجبِ کفر ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص مسلمان نہیں ہو سکتا اور شیعوں کے بہت سے فرقے مختلف کفریہ عقائد رکھتے ہیں، مثلاً: حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت والی صفت اپنے ائمہ میں ثابت کرنا اور حضرت صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا انکار کرنا یہ صحیح ہے کہ ان کی صحابیت کے انکار سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو حقیقت قرآن سے احادیثِ متواترہ اور اجماعِ امت سے مستفاد ہے، اس کا انکار کرنے کی وجہ سے یقیناً کفر کا حکم ہو گا، جیسے کوئی شخص کسی نبی کی نبوت کا انکار کر دے تو اس سے اگرچہ نبی کی نبوت ختم نہیں ہوتی لیکن منکر کافر قرار پاتا ہے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 11)
لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 12)
لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡـكٰذِبُوۡنَ ۞
(سورۃ النور: آیت 13)
وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 14)
اِذۡ تَلَـقَّوۡنَهٗ بِاَ لۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَ فۡوَاهِكُمۡ مَّا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 15)
وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 16)
وقال الله تعالىٰ: اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞
(سورۃ النور: آیت 26)
لو استحل السب او القتل فهو كافر لا محالة سب الصحابة والطعن فيهم ان كان مما يخالف الادلة القطعية كفر، كقذف عائشة والافتراء وفسق۔ (شرح الفقه الاكبر: صفحہ 86)
وقال الله تعالىٰ: ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا الخ
(سورة التوبہ: آیت 40)
ومنهما السلام الرجل اذا كانت المرأة مسلمة، فلا يجوز انكاح المؤمنة الكافر لقوله تعالىٰ: وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا الخ۔
(سورۃ: البقرہ آیت 221)
شیعہ مذہب، اسلام سے بالکل الگ مذہب ہے، اس کے عقائد اور اصول و فروع سب جدا گانہ ہیں، نماز کے طریقے میں بھی فرق ہے لہٰذا کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا صحیح طریقہ چھوڑ کر باطل مذہب کا طریقہ اپنائے۔
وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامها احكام المرتدين۔
(الفتاوى الہنديۃ: جلد2 صفحہ264)
وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها، فلا يصح الاقتداء به اصلا۔
(الدر المختار مع الشامی: جلد2 صفحہ300)
اب آپ کے لیے دو ہی راستے ہیں، یا تو آپ اپنے شوہر کو صحیح عقائد اور اعمال کی طرف لا کر اس سے از سر نو نکاح کریں اور شیعیت کے ماحول سے نکل کر الگ جگہ رہیں، اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو فوری طور پر اس شیعہ شوہر سے جدائی حاصل کر کے اس سے الگ زندگی گزاریں شوہر کے شیعہ رہتے ہوئے آپ کا اس کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
(كتاب النوازل: جلد8 صفحہ329)
