حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری رحمۃاللہ کا فتویٰ (نائب مفتی و استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد) رافضی کی نماز جنازہ پڑھنا پڑھانا اور اس کے دفن و ایصال ثواب وغیرہ میں شریک ہونا اور اس کو اچھا بتانا
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ رافضی کے عقائد پر واقف ہوتے ہوئے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کا حکم بیان فرمائیں؟ نیز جو لوگ عقائد سے تو واقف نہیں ہیں مگر یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رافضی ہے تو ایسے لوگوں کا رافضی کی نمازِ جنازہ پڑھنا پڑھانا اور دفن و ایصالِ ثواب وغیرہ میں شریک ہونا اور اس کو اچھا بتانا کیسا ہے؟
جواب: جو شیعہ اپنے عقائد کی بناء پر کافر ہو، اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت نا جائز ہے اور اس میں شرکت کرنے والے گہنگار ہیں۔
وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞
(سورۃ البقرة: آیت 217)
وقال الله تعالىٰ وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔
(سورة التوبہ: آیت 84)
والمراد من الصلوٰة المنهى عنها صلاة الميت المعروفة وهی متضمنة للدعاء والاستغفار والاستشفاع۔
(روح المعانی: جلد 10 صفحہ155)
عن ابن عباس عن عمر بن خطاب انه قال: لما مات عبد الله بن ابی بن سلول دعى له رسول اللہﷺ ليصلى عليه، فلما قام رسول اللہﷺ وثبت اليه فقلت: يا رسول اللہﷺ قال فصلى عليه رسول اللہﷺ ثم انصرف فلم يمكث الا يسير حتىٰ نزلت الآيتان من براءة وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا الى قوله وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞
وهم فاسقون
(صحيح البخاری: جلد 1 صفحہ182)
وشرطها ستة: اسلام الميت وطهارته۔
(الدر المختار: جلد، 2 صفحہ، 207)
والحق حرمة الدعاء بالمغفرة للكافر۔
(الدر المختار: جلد 1 صفحہ 522)
اما المرتد فيلقی فی حفرة كالكلب ای ولا يغسل ولا يكفن ولا يدفع الى من انتقل الى دينهم۔
(رد المحتار مع الدر المختار: جلد2 صفحہ 230)
كتاب النوازل: جلد 6 صفحہ108)
