ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تبھی ہم بیدار ہوں گے
علی محمد محمد الصلابی6۔ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تبھی ہم بیدار ہوں گے:
سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میرے اور فاطمہ کے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر اپنے گھر لوٹ گئے اور کچھ دیر رات گئی نماز پڑھتے رہے، آپ نے ہماری بیداری کی کوئی آہٹ نہیں سنی، لوٹ کر پھر ہمارے پاس آئے، ہمیں بیدار کیا، فرمایا: ((قُوْمَا فَصَلِّیَا)) ’’تم لوگ اٹھو، نماز پڑھو۔‘‘میں اٹھ کر بیٹھ گیا، اورآنکھیں ملتے ہوئے کہنے لگا: اللہ کی قسم ہم اتنی ہی نماز پڑھ سکیں گے جتنی ہماری تقدیر میں لکھی ہو گی، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھوں میں ہیں، جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تبھی ہم بیدار ہوں گے، پھر اللہ کے رسولﷺ جانے لگے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے:
مَا نُصَلِّيْ إِلَّا مَا کُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي اِلَّا مَا کُتِبَ لَنَا:
وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (سورۃ الکہف آیت 54)
(صحیح البخاری: 5362، و صحیح مسلم: 2727)۔
’’ہم اتنی ہی نماز پڑھ سکیں گے جتنا اللہ نے ہماری تقدیر میں لکھا ہوگا، ہم اتنی ہی نماز پڑھ سکیں گے جتنا اللہ نے ہماری تقدیر میں لکھا ہوگا اور انسان بیشتر چیزوں کے لیے جھگڑالو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
اس واقعہ میں صاف نظر آرہا ہے کہ حضرت علیؓ حق کے لیے کس قدر مخلص اور علم نبویﷺ کی نشر و اشاعت کے شیدائی تھے۔ آپ غور کریں کہ یہ واقعہ صرف سیدنا علیؓ کی ذات سے متعلق تھا، آپ چاہتے تھے تو اسے چھپا لیتے، معلوم رہے یہ واقعہ تہجد کی نماز کا تھا، جو کہ واجب نہیں، پھر بھی سیدنا علیؓ نے اسے عام کیا، پس مسلمانوں کے حق میں سیدنا علیؓ کا یہ عمل ایک عظیم درس ہے جس پر مسلمانوں کو کاربند ہونا چاہیے۔