کیا اہل تشیع کے ہاں عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟…

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟ شیعہ مناظر کی کمزور تاویلات اور تحریر وسیلہ کے متعلق خیانتیں!(قسط 19)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

اس کے  بعد خمینی کی کتاب سے دو عربی عکس اور جان بوجھ کر اردو کا صرف ٹائٹل پیج پیش کر کے اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ روش صرف شیعوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ خیر۔ میں نے اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کیا اور عربی و اردو  عبارات پر غور کیا تو پتہ چلا کہ ان دونوں پیجز میں بھی عورت کے غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین گھر وغیرہ کا وارث ہونا کہیں بھی مذکور نہیں ہے!!

اس عبارت کا اردو ترجمہ

اس عبارت کا اردو ترجمہ

 تمام گروپ ممبرز شیعہ مناظر کی اعلی ظرفی اور حق طلبی  اور علمی انداز گفتگو پر غور کریں۔

انہیں ثابت کیا کرنا تھا اور وہ دکھا کیا رہے ہیں۔

اصول کافی میں ایک مستقل باب ہے کہ  عورت زمین کی وارث نہیں ہوتی۔ اور ہمارے شیعہ مناظر قول معصوم کا رد اقوال شیعہ  علماء سے کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ اللہ کی پناہ

میرے دونوں دلائل بطور الزامی جواب ابھی تک شیعہ مناظر پر قرض ہیں۔  اب  شیعہ مناظر کی آج کی لمبی تحریر پر آتا ہوں۔

1۔  اگر سیدہ فدک کو بطور میراث اپنا حق سمجھتی تھیں تو بقول آپ کے فدک کے کچھ حصے کی دعویدار تھیں یا پورا فدک سیدہ فاطمہ کا حق تھا؟  کھل کر وضاحت کیجئے گا۔

 2۔  اگر سیدنا علی بھی فدک کو سیدہ فاطمہ کا حق سمجھتے تھے تو پورا باغ فدک یا اس کا کچھ حصہ؟ اور اپنے دور حکومت میں وہ حق ورثاء تک کیوں نہیں پہنچایا؟کھل کر جواب دیجئے گا۔

3۔ ماترکناہ صدقہ کے الفاظ دکھانا ضروری نہیں ہیں۔ انبیائے کرام کی مالی وراثت کا قرآن میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے اور عام وراثت کی آیات میں نبی شامل نہیں ہیں کیونکہ اس کی تخصیص سنی و شیعہ کی متفق علیہ احادیث سے ہو رہی ہے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی دنیا کی ملکیت چھوڑ کر نہیں جاتے۔ نبی کو عام انسان کی طرح سمجھنا شان رسالت کے خلاف ہے۔

 4۔  اصول کافی کی وہ روایت پیش کریں جس کے مطابق سیدہ فاطمہ رسول کے مال کی وارث تھی۔ بقول آپ کے عورت لفظ عام ہے اور بیٹی لفظ خاص ہے لہٰذا خاص پر عام کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا تو محترم میراث کی آیات بھی عام ہیں جبکہ نبی خاص ہے لہٰذا  آپ کی ہی منطق کے مطابق خاص پر عام کو دلیل بنانا درست نہیں ہے۔

دوسری بات عورت بیٹی ہو یا بیوی اس کے حقوق قرآن سے واضح ہیں تو پھر ؟

5۔  اصول کافی میں خلاف قرآن یہ باب کیوں اور آپ کے محدثین کی طرف سے چار روایات کی توثیق کیوں کی گئی ہے؟    بیوی ہو یا بیٹی اسے زمین کی وراثت ملنے سے محروم کرنا صریح خلاف قرآن نہیں ہے؟

میں صرف اپنے وہ سوال دہراتا رہوں گا جن کے جوابات نہیں دئے جا رہے بلکہ آج ان سوالات میں مزید اضافہ بھی ہوچکا ہے۔ آپ کا دعوی ایک طرف تحریر کے پہلے مرحلے کا  الف بھی ثابت نہیں ہو سکا۔

صرف آدھا سچ دکھا کر فرعون سب سے بڑا رب تھوڑی بن جائے گا۔ معاذاللہ۔

آپ نے  ذاتی تاویلات سے واضح غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے ، جب  روایت پوری راوی بیان کر رہا ہے تو تسلسل تو برقرار ہی ہوگا۔ ادراج کرتے ہوئے جو اضافہ کیا وہ اندازہ درست بھی ہو ،  یہ لازم نہیں ہے۔

اصل پوائنٹ   یہ ہے کہ ناراضگی کا راوی کو علم کیسے ہوا؟

روایت میں سیدہ سے ناراضگی کے الفاظ/تاثرات موجود نہیں ہیں۔ ظاہر ہے سیدہ پردے میں گئی ہوں گی، چہرے کے تاثرات دیکھنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کیا  راوی کو الہام  ہوگیا، جبکہ یہی واقعہ کئی طرق سے کافی راویوں نے بیان کیا ہے۔ کسی اور کو یہ الہام کیوں نہیں ہوا۔ دوسری بات وقتی رنجش ہونا کوئی معیوب بات نہیں ہوتی۔ نبیوں سے بھی ثابت ہے۔ تیسری بات فیصلہ تو نبیﷺ خود فرما گئے تھے تو بیٹی کا سخت ناراض ہونا سمجھنے سے سیدہ  فاطمہ کی شان مجروح ہوتی ہے۔

آپ پیچھے کی بات کو آگے سے ملا کر زبردستی اپنا مطلب تھونپ رہے ہیں۔ اگر سچے ہیں تو کسی صحیح حدیث سے قالت کے بعد ناراضگی کے الفاظ دکھائیں۔ آپ کو قال تو مل جائے گا لیکن قالت نہیں ملے گا کیونکہ ناراضگی کے الفاظ مرد  راوی کے ہیں۔ کوشش کر کے دیکھیں۔

میں حق بات قبول کرنے والوں میں سے ہوں۔ ایک واقعے کو صرف ایک طرق سے سمجھ کر کئی دوسری صحیح روایات کا انکار کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ خاص طور پر  جب  آخرت خراب ہونے کا خطرہ بھی ہو۔

حضرت ابوبکر نے براہ راست نبی سے جو فرمان سنا اس پر عمل کرنا ہی عین حق تھا۔

اگر فدک ذاتی ملکیت بنایا جاتا تو شیعہ کی بات درست سمجھی جا سکتی تھی لیکن فدک بطور وراثت خلفائے راشدین کی اولاد کو ملا ہی نہیں۔ یہ کیسی لالچ تھی کہ اپنا فائیدہ ہی نہ ہو!

میں اب بھی یہی گذارش کرتا ہوں کہ میرےوضاحت طلب نکات کے نمبر ڈال کر آسان الفاظ میں جواب دیں۔

1۔ سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک بطور میراث   اہل تشیع مؤقف کہاں ہے؟

 *جواب*  اہل تشیع قبول کرتے ہیں کہ کچھ حصہ طلب کیا۔ 

سوال: کیا سیدہ فاطمہ کو آیات میراث کا علم تھا؟ اگر ہاں تو پورا فدک ان کو ورثے میں کیسے دیا جاتا؟

جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

2۔  شیعہ مناظر  نے اپنی تحریر میں سیدہ فاطمہ کا مطالبہ اور ناراضگی بیان کی تھی لیکن فرمان نبویﷺ جس پر فدک کا فیصلہ ہوا ،  اسے کیوں بیان نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔  وہ کونسی صحیح روایت ہے جس میں سیدہ  فاطمہ سے ناراضگی کے الفاظ/چہرے یا جسمانی تاثرات بیان کئے گئے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

4۔  راوی ابن شہاب کے علاوہ کسی اور راوی کی روایت کہاں ہے جس میں سیدہ  فاطمہ کی ناراضگی بیان ہوئی ہے؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5۔   کیا اہل تشیع راوی کا گمان قبول کرتے ہیں؟ اس کا جواب کہاں ہے؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6۔  سیدہ فاطمہ کو جو فرمان نبویﷺ  سنایا گیا وہ متفق علیہ بین الفرقین ہے۔ اس کا رد کہاں ہے؟ (آپ کی تاویلات کا رد کردیا گیا ہے)

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

7۔   الزامی جوابات میں عورت کی وراثت نہ ہونے پر زوجہ کہہ کر شیعہ مناظر نے اپنی صحیح روایت سے جان چھڑانے کی کوشش کی، اس پر میرے اشکالات کا جواب کہاں ہے؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

8۔   اگر سیدہ فدک کو بطور میراث اپنا حق سمجھتی تھیں تو بقول آپ کے فدک کے کچھ حصے کی دعویدار تھیں یا پورا فدک سیدہ فاطمہ کا حق تھا؟  کھل کر وضاحت کیجئے گا۔

جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صفحہ 2 از 3