شیعہ کا نماز جنازہ پڑھنے کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کا نماز جنازہ پڑھنے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: 

1: شیعہ کے ہاتھ کا ذبیحہ اہلِ سنت و الجماعت کے لیے کھانا جائز ہے یا نہیں؟ 

2: کیا ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا مناسب ہے یا نہیں؟ 

3: کچھ احباب نے ان کے یہاں اپنے بچوں کا نکاح کیا ہے، تو شرعی حکم کیا ہے؟ 

جواب:

1: شیعہ غالی جو حضرت علیؓ کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی سب کرتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگاتے ہیں، ان کا ذبیحہ حلال نہیں، اس کا کھانا جائز نہیں اور شیعہ تفضیلی جو صرف حضرت علیؓ کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر فضیلت دیتے ہیں، ان کا ذبیحہ حلال ہے اور ہمارے ہندوستان میں اکثر شیعہ غالی ہیں۔ 

وفی الشامیة وبھذا ظھران الرافضی ان کان ممن یعتقد الالوہیة فی علی او ان جبریل علیہ السلام غلط فی الوحی او کان ینکر صحبة الصدیق او یقذف السیدة الصدیقة فهو کافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدین بالضرورة، بخلاف ما اذا کانوا یفضلون علیا او یسبون الصحابة، فانہ مبتدع لا کافر، الخ۔ 

وفی الشامیة فی مقام آخر: اذا کان یسب الشیخین ویلعنھما فهو کافر۔ 

2: ان کے جنازہ میں شرکت کرنے سے گریز کرنا لازم ہے۔ 

3: شیعہ غالی سے نکاح جائز نہیں۔ 

وفی الشامیة: اذا کان یسب الشیخین ویلعنھما فهو کافر وفی الھندیة وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحکامھم احکام المرتدین۔ 

(فتاویٰ قاسمیہ: جلد2 صفحہ303)