شیعوں کے مکان پر قرآن خوانی میں شرکت کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ موجودہ شیعہ جو بظاہر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطعون نہیں کرتے اور اعلانیہ تبرا بازی بھی سننے میں نہیں آتی، ایسے شیعہ کے مکان پر قرآن خوانی میں شرکت کرنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟
جواب: ہندوستان میں رہنے والے جتنے بھی شیعہ ہیں، تقریباً سبھی اثناءِ عشریہ اور شیعہ غالی ہیں جو حضراتِ شیخینؓ کو سبِّ وشتم کرتے ہیں، اور ان میں سے کوئی شیعہ تفضیلی ہو اس کا فیصلہ بہت مشکل ہے اور شیعوں میں ایک عمل تقیہ کا ہے، یعنی سنیوں کو دھوکہ دے کر کامیابی حاصل کرنے کا، اس لیے سوال نامہ میں درج کردہ کوئی بھی عمل شیعوں کے یہاں جا کر کرنے سے ہر سنی کو گریز کرنا چاہیے۔
وفی الہندیة الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنھما والعیاذ باللہ فهو کافر وان کان یفضل علیا على ابی بکر لا یکون کافرا، الا انہ مبتدع۔
(فتاویٰ قاسمیہ: جلد2 صفحہ306)
