جھوٹے مدعیان مہدی اور من گھڑت بارہویں امام - ردِ رافضیت |…

جھوٹے مدعیان مہدی اور من گھڑت بارہویں امام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

پہلا مہدی: صالح بن طریف برغوانی:

آنحضرتﷺ کی طرف آخری زمانہ میں سیدنا مہدی کے ظہور پر مشتمل ارشادات کی آڑ میں ہر صدی میں کسی نہ کسی جھوٹے اور کاذب مدعی نے مہدی موعود کا دعویٰ کر کے سادہ لوح عوام کو ورغلایا شیعہ کی طرف سے بارہویں امام کی علامات اور ان کے کارناموں کی تصریحات سامنے آ جانے کے بعد ہر ملک اور قوم سے مہدی نچھاور ہونے لگے طرح طرح کی پیشنگوئیوں اور من گھڑت الہامات اور دعاویٰ نے خود مہدیوں کی آمد اور طریقِ کار کو بھی مضحکہ بنا دیا تھا۔ 

اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ چند جھوٹے مدعیانِ مہدی کا تعارف کراتے ہیں پڑھیے، سردھنائیے اور کاذبوں کی نگری میں پیش آنے والی بو قلمونیوں سے لطف اندوز ہوں۔

مختصر تعارف:

نام مع ولدیت: صالح بن طریف  

مقام ولدیت: سر زمین اندلس کے قلعہ باطرین میں پیدا ہوا۔  

دعوئی مہدویت: 135ھ میں پہلے دعویٰ نبوت کیا پھر مہدی اکبر ہونے کا مدعی ہو گیا۔  

مقام: مغرب اقصیٰ کے علاقہ تامستان میں بربری قبائل کی سادگی سے فائدہ اٹھا کر دعویٰ مہدویت کیا۔  

کارگزاری: دعویٰ مہدویت کے کچھ عرصہ بعد شمالی افریقہ کے ایک وسیع علاقے میں حکومت قائم کی۔  

کارنامہ:   الف' اقتدار پر آنے کے بعد جاہل اور سادہ لوح عوام کے سامنے 80 سورتوں والا قرآن پیش کیا اس میں اپنی امامت اور دعویٰ مہدویت پر مشتمل سورتیں گڑھی گئی ہیں۔  

گوشہ نشینی: 174ھ میں اقتدار سے علیحدہ ہو کر مشرقی افریقہ میں گوشہ نشینی اختیار کی۔