حضرت مولانا مفتی شبیر احمد القاسمی رحمۃاللہ کا فتویٰ…

حضرت مولانا مفتی شبیر احمد القاسمی رحمۃاللہ کا فتویٰ (خادم الافتاء والحدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد الہند) شیعہ روافض کا جنازہ پڑھنا


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اہلِ شیعہ کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟ ان کے مردوں پر نمازِ جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کے اموال سے مساجد وغیرہ تعمیر کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ایسے ہی متبرک مقامات میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ 

جواب: غالی شیعہ مثلاً: فرقہ اثناءِ عشریہ چار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ماسوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مرتد ہونے و تحریفِ قرآن و عصمتِ ائمہ جو ختمِ نبوت کو مستلزم ہے کے عقیدے کی بنیاد پر کافر مرتد، ضال مضل و خارج از اسلام ہیں۔ 

وفی فتح المغیث اذا رأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللہﷺ فاعلم انہ زندیق وذلک ان القرآن حق، والرسول حق، وما جاء بہ حق وما ادی ذلک الینا کل الا الصحابة، فمن جرحھم انما اراد ابطال الكتاب والسنة، فيكون الجرح به الیق والحكم علیه بالزنادقة والضلالة اقوم واحق، الخ۔

وفی المرقاة کل کافر تاب فتوبته مقبولة فی الدنیا والآخرة الا جماعة الكافر بسب النبیﷺ وسب الشیخین او احدهما۔

لہٰذا ان کی نمازِ جنازہ جائز نہیں ہوگی، نیز ان کے اموال کو خالص دینی کام و مذہبی معاملہ میں قبول نہ کیا جائے، اگر ضرورت ہو تو اولاً شیعہ سنی کو مالک بنا دے، پھر وہ سنی مسجد میں خرچ کر دیا کرے۔ 

(فتاویٰ قاسمیہ: جلد2 صفحہ304)