غزوہ عشیرہ:(مکہ اور مدینہ کے درمیان ینبع کے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے۔)
علی محمد محمد الصلابیغزوہ عشیرہ:(مکہ اور مدینہ کے درمیان ینبع کے علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے۔)
مقام ’’عشیرہ‘‘ میں رسول اللہﷺ نے قریش سے غزوہ کا ارادہ کیا تھا، چنانچہ ابوسلمہ بن عبدالاسدؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کر کے عشیرہ کی طرف غزوہ کے لیے نکل پڑے، وہاں پہنچ کر جمادی الاولیٰ اور جمادی الاخریٰ کے ابتدائی کچھ ایام قیام کیا، دورانِ قیام بنومدلج اور ان کے حلیف بنوضمرہ سے آپ نے باہمی نصرت و تعاون پر معاہدہ کیا اور مدینہ واپس لوٹ آئے، کوئی جنگ نہ ہوئی، اس لیے کہ شام کی طرف جانے والے جس قافلہ کو آپ نشانہ بنانے نکلے تھے وہ آپ کے پہنچنے سے پہلے ہی ساحلی راستہ سے آگے نکل چکا تھا۔ (طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 10)۔
حضرت عمار بن یاسرؓ اس غزوہ میں اپنی اور سیدنا علیؓ کی شرکت کا تذکرہ یوں کرتے ہیں: ’’غزوہ ذی العشیرہ‘‘ میں میں اور علی دونوں ساتھ ساتھ تھے، جب اللہ کے رسولﷺ وہاں پہنچے اور چند ایام قیام کیا تو کھجور کے ایک باغ میں ایک چشمہ کے پاس بنومدلج کے کچھ لوگ کام کرتے ہوئے نظر آئے، حضرت علیؓ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے: اے ابوالیقظان! کیوں نہ ان کے پاس چل کر دیکھا جائے کہ کیسے کام کرتے ہیں؟ پھر ہم ان کے پاس آئے اور کچھ دیر ان کے اُمور کا مشاہدہ کرتے رہے، پھر ہمیں نیند آنے لگی، اس لیے ہم دونوں وہاں سے چل دیے اور باغ کی دیوار سے متصل خالص مٹی پر آ کر سو گئے اور گہری نیند سوئے، اگر کسی نے ہمیں بیدار کیا تو وہ رسول اللہﷺ تھے، آپ ہمارے قدموں کو ہلا رہے تھے، اور ہم مٹی میں لت پت تھے، اس موقع پر جب آپﷺ نے مٹی دیکھی تو حضرت علیؓ سے کہا: ’’یَا اَبَا تُرَابٍ‘‘ اے ابوتراب۔ ’’اَلَا اُحَدّثُکُمَا بِأَشْقَی النَّاسِرَجُلَیْنِ؟‘‘
کیا میں تمھیں ایسے دو آدمیوں کا نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں، ہم نے کہا: ہاں ضرور بتائیے اے اللہ کے رسول۔
آپﷺ نے فرمایا: احمیر ثَمُوْدَ الَّذِیْ عَقَرَ النَّاقَۃَ، وَالَّذِیْ یَضْرِبُکَ یَاعَلِیُّ، عَلٰی ہٰذِہ حَتّٰی تَبُلُّ مِنْہُ۔
قوم ثمود کا وہ بےوقوف جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اے علی! جو تمہیں اس (کھوپڑی) پر مارے گا، یہاں تک کہ یہ (داڑھی) خون سے تر ہوجائے گی۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 855) حدیث نمبر 1172) اس کی سند حسن ہے۔
اس طرح آپﷺ نے کئی بار حضرت علیؓ کو اے ابوتراب، اے ابوتراب کہہ کر پکارا۔