ترجمہ: غیبتِ کبریٰ کے زمانہ میں امام مہدی اور ان کے اولاد کے مساکن کی نورانیت کے بارے میں (یہ فصل ہے) فتح اللہ کاشانی نقل کرتا ہے کہ ایک شیعہ نے اپنے والد کی معیت میں سمندر کا سفر کیا جب وہ سرسبز جزیرے پر پہنچے تو وہاں کے بادشاہ سے ملاقات ہوئی تو اس شیعہ نے بادشاہ سے عرض کی آپ کا نسب کیا ہے بادشاہ نے کہا میں طاہر بن محمد امام مہدی ہوں اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی اولاد ہوں میں وہ ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت فرمائی ہے:
وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ۞
(سورۃ یٰسین: آیت 12)
پھر اس بادشاہ نے ہمیں اپنے ہاں بطورِ مہمان ٹھہرنے کا کہا ہم وہاں آٹھ دن رہے اور اس شہر کے تمام باشندے ایک ایک کر کے ہمارے پاس آئے اور ہم سے بات چیت کی جب آٹھ دن گزر گئے تو ان لوگوں نے بادشاہ سے ہمارے لیے درخواست کی کہ انہیں ہمارا مہمان بننے کی اجازت دی جائے اجازت ملنے پر انہوں نے ہمارے لیے بہت سے میوہ جات اور خوردنی اشیاء جمع کیں اور ہمارے لیے مہمانی کرتے رہے ہم وہاں ایک سال تک مقیم رہے ہمیں معلوم ہوا اور تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ شہر دو مہینوں کی مسافت میں پھیلا ہوا ہے اس کے آگے ایک شہر تھا جس کا نام رایقہ تھا اور اس کے بادشاہ کا نام قاسم تھا جو سیدنا مہدی کے صاحبزادے تھے ان کی حکومت بھی دو مہینوں کی مسافت تک پھیلی ہوئی تھی یہ بھی پہلے شہر کی طرح تھا اور آمدنی اچھی خاصی تھی اس کے بعد ایک اور شہر صافیہ نامی تھا، جس کے حکمران کا نام ابراہیم بن سیدنا مہدی تھا اس کے بعد ایک اور شہر ظلوم نامی تھا اور اس کے حکمران کا نام عبد الرحمٰن بن مہدی تھا اس کے مضافات سمیت اس کی آبادی بھی دو مہینوں کی مسافت تک تھی اس کے بعد ایک اور شہر تھا جس کا نام عناطیس تھا اس کے بادشاہ کا نام ہاشم بن مہدی تھا اس کی آمدنی بہت زیادہ تھی اور اس کی لمبائی چوڑائی چار ماہ کی مسافت کے برابر تھی تو ان تمام پانچ شہروں یعنی علاقہ جات کی مجموعی لمبائی چوڑائی ایک سال کی مسافت کے برابر تھی ان تمام علاقہ جات اور وادیوں میں صرف شیعہ مومن موحد رہتے تھے جو تبرہ بازی اور ولایت کے معتقد تھے نماز پڑھتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور نیکی کا حکم دیتے، برائی سے منع کرتے تھے ان پانچوں ممالک کے حکمران امام غائب القائم (سیدنا مہدی) کی اولاد ہیں اور وہ عدل و انصاف سے حکومت کر رہے ہیں روئے زمین پر ان کی کوئی مثل نہیں اگر پوری دنیا کے لوگ جمع کر دیے جائیں تو دین و مذہب کے اختلاف کے باوجود سب لوگوں سے زیادہ ہیں ہم ان کے ہاں ایک سال مکمل ٹھہرے اور دورانِ قیام سیدنا مہدی کے ظہور اور تشریف لانے کا انتظار کرتے رہے کیونکہ ان آبادیوں کے باشندوں کا یہ خیال تھا کہ اس سال سیدنا مہدی تشریف لانے والے ہیں لیکن امام القائم کی زیارت سے ہم بے توفیق رہے۔